Monday, April 11, 2011

بدعنوانی ہی انتخابات کا اہم ایشو‎


فردوس خان
بدعنوانیکے ایشونے تمل ناڈو کی سیاست کا پارہ چڑھا دیا ہے۔برسراقتدار پارٹی دروڑ منیتر کشگم (ڈی ایم کے) کے سربراہ اور وزیراعلیٰ ایم کروناندھی بدعنوانی کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے قریبی لیڈر اے راجا 2جی اسپیکٹرم گھوٹالے کی بھینٹ چڑھ کر جیل پہنچ گئے ہیں۔ اب ان کی ریمانڈ کی مدت بھی بڑھ گئی ہے۔ راجا کی مہربانی حاصل کرنے والے سوان ٹیلی کام کے مالک اور ڈی بی ریئلٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہد عثمان بلوا کو بھی سی بی آئی گرفتار کر چکی ہے۔ بلوا کی ڈی بی ریئلٹی کمپنی کے ذریعہ تمل چینل کلیگ نار ٹی وی کو 200 کروڑ روپے جاری کیے جانے کے معاملے کی سی بی آئی جانچ کر رہی ہے اور اسی سلسلے میں کنی ماجھی سے پوچھ گچھ کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ گلیگ نار ٹی وی میں کروناندھی کی بڑی حصہ داری ہے، جب کہ کنی ماجھی کی حصہ داری 20 فیصد ہے۔ ان کے بیٹے ایم کے اسٹالن اور ایم کے الاگیری آپس میں لڑ رہے ہیں۔ اے آئی ایم ڈی ایم کے کی جنرل سکریٹری اور سابق وزیراعلیٰ جے للتاڈی ایم کے کی اقربا پروری، 2جی اسپیکٹرم گھوٹالا، بدعنوانی اور مہنگائی کو انتخابی ایشو بناتے ہوئے عوام سے مضبوط حکومت دینے کا وعدہ کر رہی ہیں۔ جب کہ ایم کروناندھی پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کے ذریعہ سستا اناج دینے، ہر غریب کنبہ کو مفت رنگین ٹیلی ویژن دینے اور ترقیاتی کام کرنے کے نام پر عوامی حمایت حاصل کرنے کی قواعد میں مصروف ہیں۔ جے للتا یہ مان کر چل رہی ہیں کہ لیفٹ سے لے کر ایم ڈی ایم کے اور وجے کانت کے مضبوط اتحاد کو انتخاب میں کامیابی ملے گی۔ اے راجا کی گرفتاری سے بدعنوانی مخالف مہم کو قوت ملی ہے۔ حالانکہ ان پر بھی بدعنوانی کے کئی معاملے چل رہے ہیں، جن میں کروڑوں روپے کے رنگین اسکیم، تانسی زمین گھوٹالہ اور آمدنی سے زیادہ جائیداد کے معاملے شامل ہیں۔ جب وہ وزیراعلیٰ بنی تھیں تب ان کے پاس 2.61 کروڑ روپے کی جائیدادتھی اور ان کی مدت کار میں یہ جائیداد بڑھ کر تقریباً 70 کروڑ کی ہو گئی۔ تمل ناڈو میں ایم کروناندھی کی قیادت میں ڈی ایم کے-کانگریس اتحاد، جے للتا کا اے ڈی ایم کے-ایم ڈی ایم کے، وجے کانت کے ڈی ایم ڈی کے کا اتحاد اور ڈاکٹر رام دوس کی قیادت میں پٹالی مکل کاچی(پی ایم کے) اور بی جے پی وغیرہ انتخابی میدان میں ہیں۔ انتخاب جیتنے کی غرض سے سیاسی پارٹیاں ناراض پارٹیوں کو راضی کرنے میں کوئی بھی کمی نہیںچھوڑ رہی ہیں۔ اکھل بھارتیہ انا دروڑ منیتر کشگم(اے ڈی ایم کے) سے الگ ہوئے مروملارچی دروڑ منیتر کشگم(ایم ڈی ایم کے) کو لبھانے کی کوشش کرتے ہوئے ایم کروناندھی نے اپنی پارٹی کی قیادت والے اتحاد کو تمل ناڈو میں اسمبلی انتخاب میں جیتنے کے لیے تمام دروڑ پارٹیوں سے ایک اسٹیج پر آنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مراسولی میں لکھا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جو پارٹی الگ تھلگ ہو گئی ہیں، جو پارٹی دیگر پارٹیوں سے بچھڑ گئی ہیں اور جنہوں نے خود کو نہیں بیچا وہ تمام ساتھ آئیں۔ ایم ڈی ایم کے لیڈر وائیکو کے اے ڈی ایم کے سے الگ ہونے کے اعلان کے بعد اور ان کے لٹّے کی طرف جھکاؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کروناندھی نے کہا کہ ہمیں ٹائیگرس کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔ ایم ڈی ایم کے اسمبلی کی 234 میں سے 35 سیٹوں پر انتخاب لڑنا چاہتی تھی، جسے کم کر کے 30 کر دیا گیا۔ اس کے بعد اے آئی ایم ڈی ایم کے نے اس میں مزید کمی کرتے ہوئے اسے 6 سیٹوں تک سمیٹ دیا اور مخالفت کرنے پر یہ سیٹیں بڑھا کر 9 کر دی گئیں۔ ایم ڈی ایم کے نے اب 35 کی بجائے 21 سیٹیں مانگیں، لیکن جے للتا نہیں مانیں۔ آخر وائیکو نے انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ پچھلے انتخاب میں کروناندھی نے دو وعدے کیے تھے، پہلا پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کے تحت دو روپے کلو چاول دینا اور ایسے ہر گھر کو ایک مفت رنگین ٹیلی ویژن دینا، جس کے پاس ٹی وی نہیں ہے۔ ان وعدوں نے اثر دکھایا اور کروناندھی کو کامیابی ملی۔ کروناندھی نے 50 اور 60 کی دہائی میں تمل آندولن کی قیادت کی اور ایمرجنسی کے دوران جیل بھی گئے۔ انہیں اصول پسند لیڈر کی شکل میں جانا جاتا تھا، لیکن اپنی اولاد کے چکر میں پڑ کر انہوں نے تمام اصولوں کو طاق پر رکھ دیا۔ ڈی ایم کے کے وزراء کو ملائی دار محکمے دلانے کے لیے مرکز کو حمایت واپسی کی دھمکی دینے اور وزارت مواصلات اپنی پارٹی کے پاس رکھنے کی ان کی ضد نے ان کے لالچ کو جگ ظاہر کردیا۔ سیٹوں کے حوالے سے ڈی ایم کے اور کانگریس بھی آمنے سامنے آ گئی تھیں۔ یہاں تک کہ ڈی ایم کے نے یو پی اے حکومت سے اپنے وزراء کو ہٹانے تک کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ڈی ایم کے کانگریس کو 60 سیٹیں دینا چاہتی تھی، لیکن کانگریس کو زیادہ سیٹیں چاہیے تھیں۔ آخر کار ڈی ایم کے کو کانگریس کو 63 سیٹیں دینی پڑیں۔ دراصل کانگریس تمل ناڈو میں اپنا اثر بڑھانا چاہتی ہے۔ گزشتہ دنوں راہل گاندھی نے ریاست میں کئی دورے کیے اور پارٹی کارکنان کو طاقت بڑھانے کے لے کہا تھا۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں کانگریس نے اتنی سیٹوں پر انتخاب نہیں لڑا۔ 1996 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے اے ڈی ایم کے کے ساتھ اتحاد کر کے 64 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے۔ انتخاب میں اتحاد کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حالانکہ اس کے بعد کانگریس ریاست میں تیسرے درجے کی پارٹی بن گئی، لیکن وہ اپنے دم پر انتخاب لڑنے کی حالت میں نہیں ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ڈی ایم کے سیٹوں کے بٹوارے کو لے کر نہیں بلکہ 2جی اسپیکٹرم گھوٹالے کی جانچ کو لے کر یو پی اے سے خفا تھی۔ وہ حکومت اور کانگریس پر دباؤ بنانا چاہتی تھی، لیکن بازی پلٹ گئی۔ سونیا گاندھی کے سخت رخ کے سامنے ڈی ایم کے کی ایک نہ چلی۔ اس کی سمجھ میں آ گیا کہ کانگریس کو اس کی اتنی ضرورت نہیں، جتنی اسے کانگریس کی ہے۔ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کا سب کچھ داؤ پر لگا ہے، جب کہ کانگریس کے پاس اس کا متبادل موجود ہے۔ ڈی ایم کے کی سیاسی دشمن جے للتا کانگریس سے کہہ چکی ہیں کہ وہ ڈی ایم کے کے 18 ممبران پارلیمنٹ کی فکر نہ کرے، کیوں کہ حکومت بچانے کے لیے ممبران پارلیمنٹ کو جٹانے کی ذمہ داری ان کی ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ کانگریس شاید ہی جے للتا پر بھروسہ کرے۔ جے للتا 1991 میں کانگریس کے ساتھ تھیں۔ 1998 میں انہوں کانگریس صدر سونیا گاندھی کو ایک چائے پارٹی دی اور بی جے پی حکومت سے حمایت واپس لے لی۔ انہوں نے 2001 میں اقتدار حاصل کیا اور بی جے پی سے نزدیکیاں بھی قائم رکھیں۔ انہوں نے کانگریس اور سونیا پر لفظوں کے تیر چلانے شروع کر دیے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ جس دن سونیا گاندھی ملک کی وزیراعظم بنیںگی، وہ دن ملک کے لیے بہت برا ہوگا۔ مگر سیاست میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کب دوست دشمن اور دشمن دوست بن جائے۔ تمل ناڈو کی سیاست میں ایک بار ڈی ایم کے تو دوسری بار اے ڈی ایم کے کی حکومت رہی ہے۔ پہلی بار ڈی ایم کے نے کانگریس کی حمایت سے مسلسل دوسری بار اقتدار حاصل کیا ہے۔

Friday, February 04, 2011

!قصوروار مسلمان نہیں ہیں

ہندوستان میں گئو کشی کے سلسلہ میں کئی تحریکیں چلی ہیں اور کئی تحریکیں آج بھی جاری ہیں، لیکن کسی تحریک کو بھی کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان تحریکوں کو عوامی تحریک کی شکل نہیں دی گئی، بلکہ یہ کہنا قطعی غلط نہ ہوگا کہ زیادہ تر تحریکیں صرف اپنی سیاست چمکانے یا چندے کی وصولیابی تک ہی محدود رہی ہیں۔ الکبیر سلاٹر ہاؤس میں روزانہ ہزاروں گائے کاٹی جاتی ہیں۔ چند سال قبل ہندوتووادی تنظیموں نے اس کے خلاف مہم بھی چھیڑی تھی، لیکن جیسے ہی یہ بات سامنے آئی کہ اس کا مالک مسلمان نہیں، بلکہ غیر مسلم ہے تو اس مہم کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا۔ یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ گئوکشی سے سب سے بڑا فائدہ گائے کے اسمگلروں اور گائے کے چمڑے کا کار و بار کرنے والے بڑے کار و باریوں کو ہی ہوتا ہے۔ ان طبقات کے دباؤ کے سبب ہی حکومت پابندی لگانے سے گریز کرتی ہے۔ ورنہ دوسری کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ جس ملک میں گائے کی ماں کی شکل میں پرستش کی جاتی ہو، وہاں کی حکومت گئو کشی کو روکنے میں ناکام ہے۔

غور طلب ہے کہ ملک میں بڑے پیمانے پر گئوکشی ہوتی ہے۔ یہ سب گائے کے گوشت اور اس کی باقیات کے لیے ہی کیا جاتا ہے، جس سے بھاری منافع ہوتا ہے۔ اتنا ہی نہیں گوشت کے لیے گایوں کو اسمگلروں کے ذریعہ پڑوسی ممالک میں بھیجا جاتا ہے۔ اس سب کی وجہ سے ایک ارب سے زیادہ کی آبادی والے ملک میں دودھ دینے والے جانوروں کی تعداد محض 16 کروڑ ہے۔ مرکزی حکومت کے ڈپارٹمنٹ آف اینمل ہسبینڈری کے مطابق 1951 میں 40 کروڑ کی آبادی پر 15 کروڑ 53 لاکھ جانور تھے۔ اسی طرح 1962 میں 93 کروڑ کی آبادی پر 20 کروڑ 45 لاکھ، 1977 میں 19 کروڑ 47 لاکھ، 2003 میں 18 کروڑ 51 لاکھ، 80 ہزار جانور بچے تھے اور 2009 میں یہ تعداد کم ہو کر محض 16 کروڑ ہی رہ گئی۔ محکمہ مویشی کے مطابق اترپردیش میں 314 مذبح خانے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں جانور کم ہو رہے ہیں۔ کیرالا میں 2002 میں ایک لاکھ 11 ہزار 665 دودھ دینے والے جانور تھے، جو 2003 میں کم ہو کر 64 ہزار 618 رہ گئے۔ راجدھانی دہلی میں 19.13 فیصد دودھ دینے والے جانور کم ہوئے ہیں، جب کہ گایوں کی شرح 38.63 فیصد کم ہوئی ہے۔ یہاں محض 6ہزار 539 گائے ہیں، جب کہ دو لاکھ تین ہزار بھینس ہیں۔ میزورم میں 34 ہزار 988 گائے اور سانڈ ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے 1.60 فیصد کم ہیں۔ تمل ناڈو میں 55 لاکھ 93 ہزار 485 بھینسیں ہیں، جب کہ 16 لاکھ 58 ہزار 415 گائے ہیں۔

حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ گئوکشی پر پابندی لگانے کی مانگ طویل عرصے سے چل رہی ہے، اس کے باوجود ابھی تک اس پر کوئی خاص عمل نہیں کیا گیا، جب کہ مسلم دور حکومت میں گئوکشی پر سخت پابندی تھی۔ قابل غور ہے کہ ہندوستان میں مسلم حکومت کے دوران کہیں بھی گئوکشی کے سلسلہ میں ہندو اور مسلمانوں میں تصادم کا واقعہ دیکھنے کو نہیں ملا۔ اپنے دور حکومت کے آخری سال میں جب مغل بادشاہ بابر بیمار ہوگیا تو اس کے خلیفہ نظام الدین کے حکم پر سپہ سالار میر باقی نے عوام کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔ جب اس کی خبر بابر تک پہنچی تو انہوں نے کابل میں قیام پذیراپنے بیٹے ہمایوں کو ایک خط لکھا۔ بابرنامے میں درج اس خط کے مطابق بابر نے اپنے بیٹے ہمایوں کو نصیحت کرتے ہوئے لکھا:

ہماری بیماری کے دوران وزراء نے نظام حکومت بگاڑ دیا ہے، جسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے چہرے پر سیاہی پوت دی گئی ہے، جسے خط میں نہیں لکھا جاسکتا۔ تم یہاں آؤ گے اور اللہ کو منظور ہوگا تب روبرو ہو کر کچھ بتا پاؤںگا۔ اگر ہماری ملاقات اللہ کو منظور نہ ہوئی تو کچھ تجربے لکھ دیتا ہوں جو ہمیں نظم حکومت کی بدحالی سے حاصل ہوئے ہیں، جو تمہارے کام آئیںگے۔

1- تمہاری زندگی میں مذہبی امتیاز کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ تمہیں بلاتفریق مذہب و ملت انصاف کرنا چاہیے۔ عوام کے تمام طبقات کے مذہبی جذبات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے۔

2 - تمہیں گئوکشی سے دور رہنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے تم ہندوستان کے عوام میں محبوب رہوگے۔ اس ملک کے لوگ تمہارے شکر گزار رہیںگے اور تمہارے ساتھ ان کا رشتہ بھی مضبوط ہوجائے گا۔

3 – تم کسی فرقے کے مذہبی مقام کو نہ گرانا، ہمیشہ انصاف کرنا، جس سے بادشاہ اور رعایا کا تعلق بہتر بنا رہے اور ملک میں بھی امن چین قائم رہے۔

احادیث میں بھی گائے کے دودھ کو فائدے مند اور گوشت کو نقصان دہ بتایا گیا ہے۔

1 - ام المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گائے کا دودھ اور گھی فائدے مند ہے اور گوشت بیماری پیدا کرتا ہے۔

2 - نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گائے کا دودھ فائدے مند ہے، گھی علاج ہے اور گوشت سے بیماری بڑھتی ہے۔(امام طبرانی و حیات الحیوان)

3 - نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم گائے کے دودھ اور گھی کا استعمال کیا کرو اور گوشت سے بچو، کیوں کہ اس کا دودھ اور گھی فائدے مند ہے اور اس کے گوشت سے بیماری پیدا ہوتی ہے۔(ابن مسعودؓ، حیات الحیوان)

4 - نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ نے دنیا میں جو بھی بیماریاں اتاری ہیں، ان میں سے ہر ایک کا علاج بھی دیا ہے، جو اس سے انجان ہے وہ انجان ہی رہے گا۔ جو جانتا ہے وہ جانتا ہی رہے گا۔ گائے کے گھی سے زیادہ صحت بخش کوئی چیز نہیں ہے۔(عبداللہ ابن مسعود حیات الحیوان)

قرآن میں کئی آیتیں ایسی ہیں، جن میں دودھ اور اون دینے والے جانوروں کا ذکر کیا گیا ہے۔

ہندوستان میں گائے کشی کو فروغ دینے میں انگریزوں نے اہم کردار ادا کیا۔ جب 1700 میں انگریز ہندوستان میں تاجر بن کر آئے تھے، اس وقت تک یہاں گائے اور خنزیر کو ہلاک نہیں کیا جاتا تھا۔ ہندوگائے کو قابل پرستش مانتے تھے اور مسلمان خنزیر کا نام تک لینا پسند نہیں کرتے، لیکن انگریز ان دونوں ہی جانوروں کے گوشت کا استعمال بڑے شوق سے کرتے تھے۔ انگریزوں کو ان دونوں ہی جانوروں کے گوشت کی ضرورت تھی۔ اس کے علاوہ وہ ہندوستان پر بھی قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو بھڑکایا کہ قرآن میں کہیں بھی نہیں لکھا ہے کہ گائے کی قربانی حرام ہے۔ اس لیے انہیں گائے کی قربانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے مسلمانوں کو لالچ بھی دیا اور کچھ لوگ ان کے جھانسے میں آگئے۔ اسی طرح انہوں نے دلت ہندوؤں کو خنزیر کے گوشت کی فروخت کر کے موٹی رقم کمانے کا جھانسہ دیا۔ غور طلب ہے کہ یوروپ دو ہزار برسوں سے گائے کے گوشت کا خاص صارف رہا ہے۔ ہندوستان میں بھی اپنی آمد کے ساتھ ہی انگریزوں نے یہاں گئوکشی شروع کرا دی۔ 18 ویں صدی کے آخر تک بڑے پیمانے پر گئو کشی ہونے لگی۔ یوروپ کی ہی طرز پر انگریزوں کی بنگال، مدراس اور بمبئی پریسیڈنسی فوج کے محکمہ رسد نے پورے ملک میں قصائی خانے بنوائے۔ جیسے جیسے ہندوستان میں انگریزی فوج اور افسران کی تعداد بڑھنے لگی ویسے ویسے ہی گئو کشی میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔

خاص بات یہ رہی کہ گئو کشی اور خنزیر کشی سے انگریزوں کو ہندو اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کا بھی موقع مل گیا۔ اسی دوران ہندو تنظیموں نے گئوکشی کے خلاف مہم چھیڑ دی۔ آخر کار مہارانی وکٹوریہ نے وائسرائے لینس ڈاؤن کو خط لکھا۔ خط میں مہارانی نے کہا: حالانکہ مسلمانوں کے ذریعہ کی جارہی گئوکشی تحریک کا سبب بنی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ہمارے خلاف ہے، کیوں کہ مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہم گئوکشی کراتے ہیں۔ اس کے ذریعہ ہی ہمارے فوجیوں کو گائے کا گوشت مہیا ہوپاتا ہے۔

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے بھی 28 جولائی 1857 کو بقرعید کے موقع پر گائے کی قربانی نہ کرنے کا فرمان جاری کیا تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی انتباہ دیا تھا کہ جو بھی گئو کشی کرنے یا کرانے کا مجرم پایا جائے گا، اسے موت کی سزا دی جائے گی۔ اس کے بعد 1892 میں ملک کے مختلف حصوں سے حکومت کو دستخط شدہ خط بھیج کر گئوکشی پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ ان خطوط پر ہندوؤں کے ساتھ مسلمانوں کے بھی دستخط ہوتے تھے۔ ا س وقت بھی ملک گیر مہم چلائی جارہی ہے، جس میں مرکزی حکومت سے گائے کو قومی جانور قرار دینے اور گائے کی نسل کی حفاظت کے لیے سخت قانون بنائے جانے کی مانگ کی جارہی ہے۔

گایوں کے تحفظ کے لیے اپنی جان دینے میں بھی ہندوستانی مسلمان کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ اترپردیش کے سہارنپور ضلع کے گاؤں نگلا کے ڈاکٹر راشد علی نے گائے اسمگلروں کے خلاف مہم چھیڑ رکھی تھی، جس کے سبب 20 اکتوبر 2003 کو ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا اور ان کی موت ہوگئی۔ انہوں نے 1998 میں گایوں کے تحفظ کا حلف لیا تھا اور تب سے ڈاکٹری کا پیشہ چھوڑ کر اپنی مہم میں جٹ گئے تھے۔

گئوکشی کو روکنے کے لیے مختلف مسلم تنظیمیں بھی سامنے آئی ہیں۔ دارالعلوم دیوبند نے ایک فتویٰ جاری کر کے مسلمانوں سے گئوکشی نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ شعبۂ افتاء دارالعلوم دیوبند کے صدر مفتی حبیب الرحمن کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں گائے کو ماں کی شکل میں پوجا جاتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو ان کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے گئوکشی سے خود کو دور رکھنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شریعت کسی ملک کے قانون کو توڑنے کی حمایت نہیں کرتی۔ قابل غور ہے کہ اس فتوے کی پاکستان میں سخت تنقید کی گئی تھی۔ اس کے بعد ہندوستان میں بھی اس فتوے کے حوالے سے خاموشی اختیار کر لی گئی۔

گائے ہندوستانی دیہی اقتصادیات کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کے علاوہ گائے کی ملک میں پوجا بھی کی جاتی ہے۔ یہ ہندوستانی ثقافت سے جڑی ہے۔ مہاتما گاندھی کہتے تھے کہ اگر بے لوث جذبہ سے خدمت کی بہترین مثال کہیں دیکھنے کو ملتی ہے تو وہ گئوماں ہے۔ گائے کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ گئو ماتا جنم دینے والی ماں سے اہم ہے۔ ہماری ماں ہمیں دو سال دودھ پلاتی ہے اور یہ امید کرتی ہے کہ ہم بڑے ہوکر اس کی خدمت کریںگے۔ گائے ہم سے چارے اور دانے کے علاوہ کسی اور چیز کی امید نہیں کرتی۔ ہماری ماں ہم سے خدمت کی توقع کرتی ہے۔ گئو ماتا شاید ہی کبھی بیمار پڑتی ہے۔ گئو ماتا ہماری خدمت تاعمر ہی نہیں کرتی، بلکہ مرنے کے بعد بھی کرتی ہے۔ اپنی ماں کی موت ہونے پر ہمیں اس کی آخری رسوم اداکرنے پر بھی رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔ گئو ماتا مر جانے پر بھی اتنی ہی مفید ثابت ہوتی ہے جتنی اپنی زندگی میں تھی۔ ہم اس کے جسم کے اجزا، آنتیں، سینگ اور چمڑے کا استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ بات میں جنم دینے والی ماں کی مذمت کے خیال سے نہیں کہہ رہا ہوں، بلکہ یہ دکھانے کے لیے کہہ رہا ہوں کہ میں گائے کی پوجا کیوں کرتا ہوں؟

غور طلب ہے کہ اتراکھنڈ ملک کا ایسا پہلاصوبہ ہے، جہاں حکومت نے گئوکشی ایکٹ میں ترمیم کر کے دس سال سزا کی تجویز کیہے۔ گزشتہ سال پنجاب میں گئو سیوا بورڈ نے گئوکشی کو روکنے کے لیے گئو کشی کرنے والوں کو دس سال کی سزا کی تجویز بنا کر وزیراعلیٰ کے پاس کابینہ کی منظوری کے لیے بھیجا تھا۔ اسے اسمبلی سے منظوری ملنے کے بعد گورنر کو بھیجا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ گئو سیوا بورڈ کی تجویز میں راجاؤں کے ذریعہ گایوں کی خدمت کے لیے دان دی گئی زمینوں کو اراضی مافیاؤں کے قبضے سے چھڑانے، سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کے گئودھن سے متعلق حکم کو نافذ کرنا بھی شامل ہے۔ حکومت جموں و کشمیر نے بھی گئوکشی اور اس کی اسمگلنگ روکنے کے لیے سخت قدم اٹھائے ہیں۔

دراصل ہندوستان میں گئوکشی کو روکنے کے لیے ایمانداری سے کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمان تو گائے کا گوشت کھانا چھوڑ دیںگے، لیکن گائے کے چمڑے کا کار و بار کرنے والے کیا گئوکشی ترک کرکے موٹی کمائی کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ گئو کشی سے سب سے زیادہ فائدہ غیرمسلموں کو ہے اور انہی کے دباؤ میں حکومت گئوکشی پر پابندی نہیں لگانا چاہتی۔ گئوکشی کے لیے ذمہ دار بڑے کارو باریوں کے خلاف بولنے کی کسی کی ہمت نہیں۔ حالانکہ گئوکشی کو لے کر اکثر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتاہے، جب کہ وہ صرف چھوٹی مچھلیاں ہیں۔

Friday, December 31, 2010

آخر کب ختم ہوگی بندھوا مزدوری‎


فردوس خان 
آزادی کی 6دہائی گزر جانے کے بعد بھی ہمارے ملک میں بندھوا مزدوری مسلسل جاری ہے۔حالانکہ حکومت نے 1975میں ایک آرڈینینس کے ذریعہ بندھوا مزدوری پر پابندی عائد کر دی تھی، مگر اس کے باوجود یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ حکومت بھی اس  بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ملک میں بندھوا مزدوری ابھی بھی جاری ہے۔دور جانے کی ضرورت  نہیں ، ملک کی راجدھانی دہلی کو ہی لے لیجئے، پولس نے گزشتہ دنوں راجدھانی کے نبی کریم علاقہ میں ایک بیگ بنانے والے کارخانہ میں کام کرنے والے 22بچوں کو آزاد کرایا۔ان  بچوں کی عمر محض7سے 12سال کے درمیان ہے۔شکایت ملنے پر سینٹرل ڈسٹرکٹ ٹاسک فورس، این سی او سلام بالک ٹرسٹ اور ہیومن رائٹس لاء نیٹورک، دہلی پولس اور لیبر ڈپارٹمنٹ کے افسران اور نمائندوں نے کارخانہ پر چھاپہ مارا تھا۔ان بچوں میں بیشتر بچے بہار کے سیتا مڑھی، دربھنگا اور نیپال کے بتائے گئے۔ افسران کے مطابق، ان بچوں سے روزانہ 12سے 14گھنٹے کام لیا جاتا تھا۔

صوبائی وزیر برائے محنت اور روزگار ہریش راوت کے مطابق،  31مارچ تک دو لاکھ 88ہزار 462بندھوا مزدوروں کو آزاد کرایا جا چکا ہے اور ان کی بازآبادکاری کے لئے 7015.46لاکھ روپے مہیا کرائے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر ضلع میں سروے کرانے کے لئے مختلف ریاستی حکومتوں کو 676لاکھ روپے دئے جا چکے ہیں۔ وزیر اعظم کے دفتر کی ہدایات کے مطابق بندھوا مزدورسسٹم استیصال قانون 1976کے تحت عمل درآمد کی نگرانی کے لئے لیبر اینڈ امپلائمنٹ سکریٹری کی صدارت میں ایک خصوصی گروپ بھی تشکیل کیا گیا ہے، جس کی اب تک علاقہ در علاقہ 18میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ حکومت نے 1980میں اعلان کیا تھا کہ اب تک ایک لاکھ 20ہزار 500بندھوا مزدوروں کو آزاد کرایا جا چکا ہے۔ لیبراینڈ امپلائمنٹ منسٹری کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، ملک میں19ریاستوں سے 31مارچ تک دو لاکھ 86ہزار 612بدھوا مزدوروں کی نشاندہی کی گئی اور انہیں آزاد کرایا گیا۔ نومبر تک صرف ایک ہی ریاست اتر پردیش میں سے 28ہزار 385میں سے صرف 58بندھوا مزدوروں کو بازآباد کیا گیا، جبکہ بقیہ 18ریاستوں  میں ایک بھی بندھوا مزدوروں کی نو آبادکاری نہیں کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق، ملک میں سب سے زیادہ تمل ناڈو میں65ہزار 573بندھوا مزدوروں کی نشاندہی کر کے انہیں آزاد کرایا گیا۔ کرناٹک میں 63ہزار 437اور اڑیسہ میں 50ہزار 29بندھوا مزدوروں کو آزاد کرایا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 19ریاستوں کو 68کروڑ 68لاکھ 42ہزار روپے کی مرکزی امداد مہیا کرائی گئی، جس میں سب سے زیادہ رقم 16کروڑ 61لاکھ 66ہزار 94روپے راجستھان کو دئے گئے۔ 15کروڑ 78لاکھ 18ہزار روپے کرناٹک اور 9کروڑ 3 لاکھ 34ہزار روپے اڑیسہ کو مہیا کرائے گئے۔ اسی میعادکے دوران سب سے کم مرکزی امداد اتراکھنڈ کو مہیا کرائی گئی۔ اتر پردیش کو 5 لاکھ 80ہزار روپے کی مرکزی امداد فراہم کرائی گئی۔ علاوہ ازیں ارونا چل پردیش، بہار، چھتیس گڑھ، دہلی، گجرات اور اتراکھنڈ کو 31مارچ 2006تک بندھوا بچوں کا سروے کرانے اور بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے پروگرام کرنے کے لئے 4کروڑ 20لاکھ روپے دئے گئے۔لیبر منسٹری کے ڈائریکٹر جنرل انل سوروپ کے مطابق بندھوا مزدوروں کی بازآبادکاری کے لئے، انہیں آزاد کرنے کے بعدفوری طور پرہر مزدورکو ایک ہزار روپے کی فوری امداد،19ہزار روپے کی بازآبادکاری امداد، رہائش، زراعتی زمین اور روزگار کے وسائل مہیا کرانے کی تجویز ہے۔راجستھان کے چیف سکریٹری برائے لیبر اینڈ پلاننگ منوہر کانت کے مطابق، ریاست میں1976سے اب تک 11ہزار 319بندھوا مزدوروں کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں سے 9ہزار 112مزدوروں کی بازآبادکاری کی گئی، جبکہ 1467کو دیگر دوسری ریاست میں بازآبادکاری کے لئے بھجوایا گیا۔ ریاست میں بندھوا مزدور رکھنے والوں کے خلاف 370چالان پیش گئے گئے، جن میں137معاملے خارج، 75میں جرمانہ،56معاملوں میں سزا دی گئی اور 102معاملوں میں ملزمین کو بری کر دیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ راجستھان میں عمارت اور دیگر تعمیری ورکرس ویلفیئر ایکٹ کے تحت 50لاکھ آلات کی شکل میں وصول کئے گئے اور 7ہزار 497مزدوروں کا رجسٹریشن کیا گیا۔

جے پور کے سانگانیر میں مزدوری کا کام کر رہے ستیہ پرکاش نے بتایا کہ اس سے پہلے وہ الور کے ساگر اینٹ بھٹے پر کام کرتا تھا، جہاں اسے کنبہ سمیت بندھوا مزدور کے طور پر رکھا گیا تھا۔ ٹھیکیدارانہیں نہ تو پوری مزدوری دیتے تھے اور نہ اسے جانے دیتے تھے۔ یہاں مزدوروں سے 15سے 16گھنٹے کام کرایا جاتا ہے۔ ان مزدوروں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔گزشتہ مئی ماہ میں بندھوا مکتی مورچہ کی شکایت پر ایس ڈی ایم، نائب تحصیلدار اور لیبر انسپکٹر نے ریونیو اسٹاف کے ساتھ بھٹے پر چھاپہ مار کر مزدوروں کو آزاد کرایا۔ستیہ پرکاش کے ساتھ ساتھ کئی دیگر مزدوروں کو بھی آزاد کرایا گیا۔انتظامیہ نے انہیں بقایہ ادائیگی کے علاوہ کرایا بھی دلوایا۔ ملک میں ایسے ہی کتنے بھٹے اور دیگر کاروباری دھندے ہیں، جہاں مزدوروں کو بندھوا بنا کر ان سے سخت محنت کرائی جاتی ہے اور مزدوری کے عوض میںبرائے نام پیسے دئے جاتے ہیں، جن سے انہیں دو وقت کی بھرپیٹ روٹی تک نصیب نہیں ہو پاتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہتی ہے،لیکن جب بندھوا مکتی مورچہ جیسی تنظیموں کے ذریعہ انتظامیہ پر دبائو بنایا جاتا ہے تو افسران نیند سے بیدار ہوتے ہیںاور کچھ جگہوں پر چھاپہ ماری کی رسم ادا کر لیتے ہیں۔ مزدور سریندر کا کہنا ہے کہ مزدوروں کو ٹھیکیداروں کی من مانی برداشت کرنی پڑتی ہے۔ انہیں ہر روز کام نہیں مل پاتا، اس لئے وہ کام کی تلاش میں اینٹ بھٹوں کا رخ کرتے ہیں، مگر وہاں بھی انہیں غیر انسانی صورتحال میں کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی مزدور بیمار ہو جائے تو اسے دوا ملنا تو دور ، آرام تک کرنے نہیں دیا جاتا ۔

دراصل، انگریزی دور حکومت میں نافذ کئے گئے زمینی بندوبست نے ہندوستان میں بندھوا مزدوری کی بنیادڈالی تھی۔اس سے پہلے تک زمین کو جوتنے والا زمین کا مالک ہوتا تھا۔ زمین کی ملکیت پر راجائوں اور جاگیرداروں کا کوئی دعویٰ نہیں تھا۔ انہیں وہی ملتا تھا، جو ان کا واجب حق ہوتا تھا اور یہ کلپیدوار کا ایک فیصد حصہ ہوتا تھا۔ کسان ہی زمین کے مالک ہوتے تھے۔ حالانکہ زمین کا اصلی مالک راجا تھا۔ پھربھی ایک بار جوتنے کے بعد ملکیت کسان کے ہاتھ میں چلی گئی۔ راجا کی بادشاہت اور کسان کی ملکیت کے درمیان کسی بھی طرح کا کوئی تنازعہ نہیںہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی ہوتی گئی، لیکن کسانوں کی زمین کی ملکیت پر کبھی کوئی اثر نہیں پڑا، راجا اور کسانوں کے درمیان کوئیثالث بھی نہیں تھا۔ زمینی نظم ٹھیک سے چلانے کے لئے راجا گائووں میں مکھیا مقرر کرتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بھی تبدیلی آتی گئی اور زمین کے مالک کا درجہ رکھنے والا کسان محض زراعتی مزدور بن کر رہ گیا۔

کہنے کو تو لیبر سسٹم ایکٹ 1976کے نافذ ہونے کے ساتھ ہی بندھوا مزدوری پر پابندی عائد ہو چکی ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ لیبر قانونوں کی لچک کے سبب مزدوروں کے استحصال کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔آزادی کے اتنے سالوں بعد بھی ہمارے ملک میں مزدوروں کی حالت قابل رحم بنی ہوئی ہے۔ خواندگی اور بیداری نہ ہونے کے سبب اس طبقہ کی جانب کسی کا دھیان نہیں گیا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ لیبر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرائے، تاکہ مزدوروں کو استحصال سے نجات مل سکے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ مزدور بھی اس ملک کی آبادی کا ایک اٹوٹ حصہ ہیں اور ملک کی ترقی کی علامت بنیں فلک بوس عمارتوں میں ان کا خون پسینہ شامل ہوتا ہے۔

Friday, November 12, 2010

میں تیری ہو مُکی آں !میرے صاحبا

میں تیری ہو مُکی آں !میرے صاحبا
منوں نہ وساریں توں مینوں،میرے صاحبا، ہر گلوں میں چُکی آں
اوگن ہاری نوں کوگُن ناہیں، بخش کرے تاں میں چُھٹی آں
جیوں بھاوے، تیوں راکھ پیارا، دامن تیرے میں لُکی آں
جے توں نظر مہر دی بھالیں، چڑھ چوبارے میں سُتی آں
کہے حسین فقیر سائیں دا، در تیرے دی کُتی آں
شاہ حسین- 



Saturday, September 11, 2010

عید مبارک