Wednesday, December 28, 2016

سجدہ


میرے مولا!
میرا ایک سجدہ
تو ایسا ہو
جو تجھے پسند آ جائے ...
فردوس خان-


Monday, December 12, 2016

رحمتوں کی بارش


سرکار دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وقف فردوس خان کا کلام

میرے مولا!
رحمتوں کی بارش کر
ہمارے آقا
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر
جب تک
کائنات روشن رہے
سورج طلوع رہے
دن اضافہ کر رہے
شام ڈھلتی رہے
اور رات آتی جاتی رہے
میرے مولا!
سلام نازل فرما
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
اور آل-نبی کی روحوں پر
ازل سے ابد تک ...


فردوس خان-

Thursday, July 09, 2015

روٹی بینک


انسان چاہے تو کیا نہیں کر سکتا. اتر پردیش کے مہوبہ ضلع کے باشندو نے وہ نیک کارنامہ کر دکھایا ہے، جس کے لئے انسانیت ہمیشہ ان پر فخر کرے گی. بدےلي سماج کے صدر حاجی مٹٹن اور کنوینر تارا پاٹکر نے کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر ایک ایسے بینک کی شروعات کی ہے، جو بھوکوں کو روٹی مہیا کرتا ہے.
بیتی 15 اپریل سے شروع ہوئے اس بینک میں ہر گھر سے دو روٹیاں لی جاتی ہیں. شروع میں اس بینک کو صرف 10 گھروں سے ہی روٹی ملتی تھی، لیکن رفتہ-رفتہ ان کی تعداد بڑھنے لگی اور اب 400 گھروں سے روٹیاں ملتی ہیں. اس طرح ہر روز بینک کے پاس 800 روٹیاں جمع ہو جاتی ہیں، جنہیں پیکٹ بنا کر ضرورت مند لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے. اس وقت 40 نوجوان اور پانچ سینئر شہری اس مہم کو چلا رہے ہیں.
شام کو نوجوان گھر گھر جا کر روٹی اور سبزی جمع کرتے ہیں. پھر ان کے پیکٹ بنا کر انہیں ان لوگوں کو پہنچاتے ہیں، جن کے پاس کھانے کی کوئی انتظام نہیں ہے. پیکنگ کا کام خواتین کرتی ہیں. اس کام میں تین سے چار گھنٹے کا وقت لگتا ہے. فی الحال بینک ایک وقت کا کھانا ہی مہیا کرا رہا ہے، مستقبل میں دونوں وقت کا کھانا دینے کی منصوبہ بندی ہے.
اس نیک کام میں لگے لوگ بہت خوش ہیں. اگر ملک بھر میں اس طرح کے روٹی بینک کھل جائیں، تو پھر کوئی بھوکا نہیں سوےگا.
روٹی بینک کا ہیلپ لائن نمبر
9554199090
8052354434

Monday, May 18, 2015

تعلیم کی طرف گامزن مسلم خواتین‎


فردو س خان
تعلیم مہذب سماج کی بنیاد ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ تعلیم یافتہ قوموں نے ہمیشہ ترقی کی ہے۔ کسی بھی شخص کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے تعلیم بہت ضروری ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ جہاں مختلف فرقے تعلیم کو اہمیت دے رہے ہیںوہیں مسلم سماج آج بھی اس معاملے میں بے حد پسماندہ ہے۔ہندوستان میں خاص کر خواتین کی حالت بے حد خراب ہے۔سچر کمیٹی کی رپورٹ کے اعداد و شمار بھی اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ دیگر فرقوں کے مقابلے مسلم خواتین اقتصادی، سماجی اور تعلیمی طور پر کافی پچھڑی ہوئی ہیں، لیکن خاص بات یہ ہے کہ تمام مشکلوں کے باوجود مسلم خواتین مختلف میدانوں میں کامیابی درج کر رہی ہیں۔

سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میںمسلم خواتین کی خواندگی شرح53.7فیصد ہے۔ان میں سے بیشتر خواتین صرف حرف شناشی تک ہی محدود ہیں۔7سے 16برس کی عمر کی اسکول جانے والی لڑکیوں کی شرح صرف 3.11فیصد ہے۔شہری علاقوں میں 4.3فیصد اور دیہی علاقوں میں2.26فیصد لڑکیاں ہی اسکول جاتی ہیں۔
سال2001میں شہری علاقوں میں70.9فیصد لڑکیاں ابتدائی سطح تک ہی تعلیم حاصل کر پائیں، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح47.8فیصد ہے۔سال1948میں یہ شرح بالترتیب 13.9اور4.0فیصد تھی۔سال2001میںآٹھویں کلاس تک تعلیم حاصل کرنے والی شہری علاقوں کی لڑکیوں کی شرح 51.1فیصد اور دیہی علاقوں میں 29.4فیصد ہے۔سال1948میں شہری علاقوں میں5.2فیصد اور دیہی علاقوں میں 0.9فیصد لڑکیاں ہی مڈل سطح تک تعلیم حاصل کر پائی تھیں۔ سال2001میں میٹرک سطح تک تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کی شرح شہری علاقوں میں32.2فیصد اور دیہی علاقوں میں 11.2فیصد ہے۔سال1948میں یہ شرح بالترتیب 3.2اور 0.4 فیصد تھی۔

تعلیم کی ہی طرح خود مختاری کے معاملے میںبھی مسلم خواتین کی حالت تشویشناک ہے۔سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 15سے64سال کی ہندو خواتین(46.1) فیصد کے مقابلے صرف25.2فیصد خواتین ہی بر سر روزگار ہیں۔ بیشتر مسلم خواتین کو پیسوں کے لیے اپنے کنبے کے لوگوں پر ہی منحصر رہنا پڑتا ہے، جس کے سبب وہ اپنی مرضی سے اپنے اوپر ایک بھی پیسہ خرچ نہیں کر پاتیں۔یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ مسلم خواتین کی بدحالی کے لیے ’’مذہبی وجوہات‘‘ کافی حد تک ذمہ دار ہیں۔ان میں برقعہ کا چلن، کئی بیویوں کا رواج اور طلاق کے معاملے اہم طور پر شامل ہیں۔ لڑکوں کی تعلیم کے بارے میں مسلم والدین کی دلیل ہوتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے سے کون سی انہیں سرکاری نوکری مل جائے گی۔پھر پڑھائی پر کیوں پیسہ برباد کیا جائے؟بچوں کو کسی کام میں ڈال دو، سیکھ لیں گے تو زندگی میں کما کھا لیں گے۔وہیں لڑکیوں کے معاملے میں والدین کہتے ہیںکہ سسرال میں جاکر چولہا چوکا ہی تو سنبھالنا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ لڑکیاں سلائی کڑھائی اور گھر کا کام کاج سیکھ لیں۔سسرال میں جاکریہ تو سننا نہیں پڑے گا کہ ماں نے کچھ سکھایا نہیں۔

مرادآباد کی رہنے والی50سال کی کامنی صدیقی بتاتی ہیں کہ وہ پڑھنا چاہتی تھیں، لیکن گھر والوں نے ان کی پڑھائی درمیان میں ہی روک دی۔وہ پانچویں کلاس میں پڑھتی تھیں، تبھی ان کو پردے میں رہنے کے لیے کہہ دیا گیا۔ ان سے کہا گیا کہ وہ صرف گھر کے کام کاج سیکھ لیں۔ سسرال میں یہی سب کام آئے گا۔پڑھ لکھ کر کون سی نوکری کرنی ہے۔انہیں اس بات کا ملال ہے کہ پڑھ نہیں پائیں، لیکن وہ اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتی ہیں۔ان کی چار بیٹیاں ہیں اور چاروں پڑھ رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ وہ سب نہیں ہونے دیں گی جو ان کے ساتھ ہوا۔ شبانہ اور نشاط نے پچھلے سال ہی دسویں کا امتحان پاس کیا ہے، وہ بتاتی ہیں کہ غریبی کی وجہ سے ان کے والدین انہیں تعلیم دلانے میںنا اہل تھے۔ اس لیے انھوں نے اپنی ماں کے ساتھ بیڑیاں بنا کر اپنی پڑھائی کے لیے پیسے اکٹھا کیے۔ان کا کہنا ہے کہ سبھی لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنی چاہئے، کیونکہ تعلیم زندگی کو بہتر بناتی ہے۔ اب وہ بیوٹیشین کا کورس کرکے اپنا بیوٹی پارلر کھولنا چاہتی ہیں۔ راج مستری کا کام کرنے والے علی محمد نے اپنی چاروں بیٹیوں کو تعلیم دی ہے، ان کی دو بیٹیاں دسویں پاس ہیں اور دو نے بی اے تک پڑھائی کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ والدین اپنی بیٹیوں کے لیے جہیز اکٹھا کرتے ہیں، لیکن ہم نے ایسا نہ کرکے ان کی تعلیم پر پیسہ خرچ کیا۔تعلیم ہی میری بیٹیوں کا زیور ہے، جو ساری عمر ان کے کام آئے گا۔چاروں بہنیں گھر پر زردوزی کا کام بھی کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ پہلے بچولئے سے کام لیا کرتی تھیں مگر اب وہ دوکانداروں سے براہ راست رابطہ کرتی ہیںجس سے انہیں پہلے سے زیادہ منافع ہوتا ہے، کیونکہ بچولیا انہیں بہت کم پیسہ دیتا تھا۔
حالانکہ اسلام میں تعلیم کو بہت اہم مانا گیا ہے۔اس کے باوجود مسلم سماج کے رہنمائوں نے تعلیم پر کوئی خاص زور نہیں دیا، جس کے سبب مسلم سماج پچھڑتا چلا گیا۔مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے بھی ایک فتویٰ جاری کرکے کہا ہے کہ تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے لازمی ہے۔چاہے وہ مرد ہو یا خاتون۔مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم پر خاص توجہ دیں، کیونکہ ایک تعلیم یافتہ خاتون پورے کنبے کو مہذب بنا سکتی ہے۔اولاد کی بہتر پرورش کے لیے ماں کا تعلیم یافتہ ہونا بے حد ضروری ہے۔ان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ نا خواندگی ہے۔ایک حدیث میں بھی کہا گیا ہے کہ ایک مرد نے پڑھا تو سمجھو ایک فرد نے پڑھا اور اگر ایک خاتون نے پڑھا تو سمجھو ایک پریوار ، ایک خاندان نے پڑھا۔فتوے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے اولاد تو اولاد نوکرانیوں کو بھی پڑھانے پر زور دیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسلم لڑکیوں کو دانستہ طور پر تعلیم سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، جس سے وہ اپنے حقوق کے تئیں بیدار نہ ہو سکیں۔حضرت محمدﷺ کے دور میں خواتین مساجد میں جاکر نماز ادا کیا کرتی تھیں۔ بے شمار جنگوں میںخواتین نے اپنی جنگی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوایا۔جنگ احد میں جب حضرت محمدﷺ زخمی ہو گئے تو ان کی بیٹی فاطمہؓ نے ان کا علاج کیا۔اس دور میں بھی رفائدہ اور میمونہ نام کی مشہور خاتون معالج تھیں۔رفائدہ کا تو میدان نبوی میں اسپتال بھی تھا، جہاں سنگین حالت میں مریضوں کو  داخل کیا جاتا تھا۔ مسلم خواتین سرجری بھی کرتی تھیں۔ام زیاد، شاذیہ، بنت مائوز، معازت الاپگریا، عطیہ اسریا اورسلیم انصاریہ وغیرہ اس زمانے کی مقبول سرجن تھیں۔ میدان جنگ میں خواتین ڈاکٹر بھی مردوں کے جیسا ہی لباس پہنتی تھیں۔خاتون عالمہ رابعہ بصری کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔مرد عالموں کی طرح وہ بھی مذہبی اجلاس میں شرکت کیا کرتی تھیں۔سیاست میں بھی خواتین نے ناقابل فراموش کام کئے۔ رضیہ سلطان ہندوستان کی پہلی خاتون حکمراں بنیں۔ نور جہاں بھی اپنے وقت کی مقبول سیاست داں رہیں، جو حکومت کا بیشتر کام کاج دیکھتی تھیں۔1857کی جنگ آزادی میں کانپور کی ہر دلعزیز رقاصہ عزیزن بائی سارے عیش و آرام ٹھکرا کر ملک کو غلامی کی زنجیروں سے چھڑانے کے لیے جنگ آزادی میں کود پڑیں۔انھوں نے خواتین کے گروپ بنائے جو مردانہ لباس میں رہتی تھیں۔وہ سبھی گھوڑوں پر سوار ہو کر اور ہاتھ میں تلوار لیکر نوجوانوں کو جنگ آزادی میں حصہ لینے کے لیے راغب کرتی تھیں۔اودھ کے نواب واجد علی شاہ کی بیوی بیگم حضرت محل نے ہندو مسلم اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے قابل ذکر کام کیے۔

موجودہ دور میں بھی مختلف میدانوں میں خواتین اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دے رہی ہیں۔ترکی جیسے جدید ترین ملک میں نہیںبلکہ انتہاپسند سمجھے جانے والے پاکستان اور بنگلہ دیش میں خواتین کو وزیر اعظم بننے کا موقع ملا ہے۔واقعی یہ ایک خوشنما احساس ہے کہ مذہب کے ٹھیکیداروں کی تمام بندشوں کے باوجود مسلم خواتین آج سیاست کے ساتھ کھیل، تجارت، صنعت ، آرٹ، ادب، دفاع اور دیگر سماجی میدانوں میں بھی اہم رول ادا کر رہی ہیں۔جموں و کشمیر کے کلالی-ہلکاک علاقے کی منیرابیگم نے دہشت گردوں کامقابلہ کرنے کے لیے بندوق اٹھا لی۔انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سورن کوٹ کے گائوں کی دیگر خواتین نے بھی ہتھیار اٹھا کر دہشت گردو ںسے اپنے اہل خانہ کی حفاظت کرنے کا عہد لیا۔جموں و کشمیر کے راجوری ضلع کے کالسی گائوں کی رخسانہ کوثر نے دہشت گردو ںکو مار کر یہ پیغام دیا کہ ملک میں بہادر خواتین کی کوئی کمی نہیں ہے۔مغربی بنگال کے نندی گرام کی شبانہ آرا نے تمام رکاوٹوں کو پار کرکے قاضی کا عہدہ سنبھالا۔کیرل کے ناویکلم کی شازینہ نے کیرل یونیورسٹی سے سنسکرت میںایم اے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنے خاندان کا نام روشن کیا۔مغربی بنگال کی پپیا سلطانہ وہاں کی پہلی خاتون ریاستی پولس افسر بنیں۔ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرکے پپیا نے ریاستی پولس سروس کے امتحان کی تیاری شروع کر دی۔انہیں آگے بڑھنے کی ترغیب اپنی ماں سلمیٰ سے ملی ، جو مدرسے میں استانی ہیں۔پپیا کا ماننا ہے کہ ان کے والدین روشن خیال ہیں اور انہی کے تعائون سے آج وہ اس مقام تک پہنچ پائی ہیں۔
یہ ایک خوشنما احساس ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میںاسکولوں میں داخلہ لینے والے مسلم بچوں خاص کر لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔نیشنل یونیورسٹی آف پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ابتدائی سطح یعنی پانچویں تک کے درجات میں 1.438کروڑمسلم بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔یہ تعداد ابتدائی سطح کے درجات میں داخلہ لینے والے کل13.438کروڑ بچوں کا11.03فیصد ہے۔ سال 2007-08میں یہ شرح 10.49فیصد تھی۔جبکہ2006-07میں یہ تعداد کل داخل بچوں کا9.39فیصد تھی۔ان درجات میں پڑھ رہے کل مسلم طلبا میں48.93فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔سینئر سیکنڈری اسکولوں میں بھی مسلم بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔یہ تعداد کل داخلے کی 9.13فیصد ہے۔قابل غور بات یہ بھی ہے کہ سینئر سکینڈری اسکولوں میں لڑکیوں کی تعداد مسلم طلبا کی تعداد کا50.03فیصد ہے، جبکہ سبھی فرقے کی لڑکیوں کا سینئر سکینڈری اسکولوںں میںکل داخلہ محض47.58فیصد ہے۔یہ رپورٹ ملک کی35ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے633اضلاع کے 12.9 لاکھ تسلیم شدہ اسکولوں سے اکٹھا کی گئی جانکاری پر مبنی ہے۔یہ اعداد و شمار مسلم سماج میں تبدیلی کی علامات ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے مسلم سماج میں بھی تعلیم کی قدر ہونے لگی ہے، اس لیے امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والا وقت مسلم خواتین کے لیے تعلیم کی روشنی سے جگمگاتی صبح لیکر آئے گا۔

Saturday, August 31, 2013

!وہ آزاد کے بعد بھی آزاد نہیں تھے‎


فردوس خان 
ہندوستان  کی کثیر آبادی کے درمیان ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے، جسے آزادی کے طویل عرصہ بعد بھی مجرموں کی طرح پولس تھانوں میں حاضری لگانی پڑتی تھی۔ آخر کار 31اگست، 1952کو اسے اس سے نجات تو مل گئی، لیکن اسے کوئی خاص توجہ حاصل نہیں ہوئی۔نتیجتاًاس کی حالت بدسے بدتر ہوتی چلی گئی۔ اس سماج کے لوگوں کو ملال اس بات کا ہے کہ جہاں ملک کی دیگر برادریوں نے ترقی کی، وہیں وہ مسلسل پسماندہ ہوتے چلے گئے۔ان کے پشتینی دھندے ختم ہوتے چلے گئے اور انہیں سرکاری سہولیات کا بھی مکمل فائدہ نہیں مل پایا۔ قابل غور ہے کہ ملک میں 15اگست بطور جشن آزادی منایا جاتا ہے، لیکن انہی خوشنما لمحوں کے درمیان سماج میں ایک ایسا طبقہ بھی ہے، جو اس دن کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتا۔ گھومنتو برادری کے یہ لوگ 31اگست کو آزادی کا جشن مناتے ہیں۔

آل انڈیا ومکت جاتی مورچہ کے ممبر بھولا کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم یوم آزادی نہیں مناتے، لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ ہمارے لئے15اگست کے بجائے 31اگست کی زیادہ اہمیت ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 15لوگوں کو دن میں تین بار پولس تھانہ میں حاضری لگانی پڑتی تھی۔ اگر کوئی شخص بیمار ہونے یا کسی دوسری وجہ سے تھانہ میں موجود نہیں ہوپاتا تو پولس کے ذریعہ اسے اذیتیں دی جاتیں۔ اتنا ہی نہیں، چوری یا کوئی دیگر مجرمانہ واردات پر بھی پولس کا قہر ان پر ٹوٹتاتھا۔ یہ سلسلہ طویل عرصہ تک چلتا رہا۔ آخر کار عاجز آ کر تشدد کے شکار لوگوں نے اس انتظامی تسلط کے خلاف آواز بلند کی اور پھر شروع ہوا لوگوں میں بیداری لانے کا سلسلہ۔لوگوں کی جدوجہد رنگ لائی اور پھر سال 1952میں انگریزوں کے ذریعہ 1871میں بنائے گئے ایکٹ میں ترمیم کی گئی۔ اسی سال 31اگست کو گھومنتو برادری کے لوگوں کو تھانہ میں حاضری لگانے سے نجات ملی۔

اس وقت ملک میں ومکت برداری کے 192قبیلوں کے تقریباً20کروڑ لوگ ہیں۔ ہریانہ کی تقریباًساڑھے سات فیصد آبادی اسی برادری کی ہے۔ ان ومکت برداریوں میں سانسی، باوریا، بھاٹ، نٹ بھیڑ کٹ اور ککر وغیرہ بھی شامل ہیں۔ بھاٹ برداری سے تعلق رکھنے والے پربھو بتاتے ہیں کہ 31اگست کے دن قبیلے کے رسم و رواج کے مطابق اجتماعی رقص کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ خواتین جمع ہو کر پکوان بناتی ہیں اور اس کے بعد اجتماعی عشائیہ ہوتا ہے۔ بچے بھی اپنے اپنے طریقوں سے خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔ کئی قبیلوں میں پتنگ بازی کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جیتنے والے لوگوں کو تقریب کی زینت سمجھا جاتا ہے۔ لوگ انہیں مبارکباد کے ساتھ ساتھ انعام بھی دیتے ہیں۔ان برادریوں کے لوگوں کے اداروں میں31اگست کو یوم آزادی منایاجاتا ہے۔ ان پروگراموں میں مرکزی وزراء سے لے کر مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندگان اور سرکاری افسران بھی شرکت کرتے ہیں۔ ان کی تیاریوں کے لئے تنظیم کے عہدیداران گائوں گائوں کا دورہ کر کے لوگوں کو تقریب کے لئے مدعو کرتے ہیں۔

ہریانہ کے علاوہ ملک کی د یگر ریاستوں میں بھی قبائلی سماج کی دیگر برادریاں رہتی ہیں، جن میں آندھرا پردیش میں بھیلی، چینچو، گونڈ، کانڈا، لمباڈی، سنگلی اور نائک ۔ آسام میں بوشے، کچاری مکر یعنی کاربی، لنلگ، راتھا، دماسا، ہمر اور ہجونگ۔بہار اور جھارکھنڈ میں جھمور ،بنجارا، برہور، کوروا، منڈا، اورائو، سنتھال، گونڈ اور کھنڈیا۔ گجرات میں بھیل، ڈھوڈیا،گونڈ،سدی،بورڈیا اور بھیلالا۔ ہماچل پردیش میں گدی،لاہوآلا اور سوانگلا۔ کرناٹک میں بھیل،چینچو، گائوڈ ، کروبا، کمارا، کولی، کوتھا، میاکا اور ٹوڈا۔کیرل میں آدیم، کونڈکپو ،ملیس اور پلیار۔مدھیہ پردیش میں بھیل، برہور ، امر، گونڈ، کھریا،ماجھی، منڈا اور اورائوں۔ چھتیس گڑھ میں پرہی، بھیلالا،بھیلائت، پردھان، راجگونڈ، سہریا، کنور،بھینجوار ،بیگا، کول اور کورکو۔ مہاراشٹر میں بھیل،بھونجیا،ڈھوڈیا،گونڈ، کھریا، نائک،اورائوں،پردھی اور پتھنا۔ میگھالیہ میں گارو، کھاسی اور جینتیا۔اڑیسہ میں جوانگ، کھانڈ ،کرووا،منڈاری، اورائوں، سنتھال،دھاروآ اور نائک، راجستھان میں بھیل، دمور، گرستہ،مینا اور سلریا۔ تمل ناڈو میں ارولر، کمرار ، کونڈکپو،کوٹا، مہملاسر، پلین اور ٹوڈا۔ تریپورہ میں چکما ،گارو، کھاسی، کوکی، لوسائی،لیانگ اور سنتھال۔ مغربی بنگال میں اسور، برہور، کوروا، لیپچا، منڈا، سنتھال اور گونڈ۔ میزورم میںلوسئی،ککی، گارو، کھاسی، جینتیا اور مکٹ۔ گوا میں ٹوڈی اور نائک۔دمن و دیپ میں ڈھوڈی، مکڑ اور ورتی۔ انڈمان میں جاروا، نکوبارمیں،اونجے،سینٹی نیلج،شومپینس اور گریٹ انڈمانی۔ اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں بھاٹی، بکسا، جونساری اور تھارو۔ ناگالینڈ میں ناگا، ککی، مکٹ اور گارو۔ سکم میں بھوٹیا اور لیپچا۔ جموںو کشمیر میں چدمپا، گرا، گور اور گڈی وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے دیگر برادریاں اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں۔
انڈین نیشنل لوک دل کے ٹپری واس ومکت جاتی مورچہ کے ضلع صدر بہادر سنگھ کا کہنا ہے کہ آزادی کی 6دہائیوںکے بعد بھی قبائلی سماج کی گھومنتو برادریاں ترقی سے کوسوں دور ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان برادریوں کی سماجی اور اقتصادی ترقی کے لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ انہیں مقامی طور پر آباد کریں۔ ان کے لئے بستیاں بنائی جائیں اور مکان مہیا کرائے جائیں، بچوں کو مفت تعلیم دی جائے اور ایس ٹی کا درجہ دیا جائے، تاکہ انہیں بھی ریزرویشن کا فائدہ مل سکے۔ قبائلی سماج کی بیشتر برادریاں آج بھی بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ وزارت دیہی ترقیات کے ایک سروے کے مطابق ان برادریوں کا نصف سے زیادہ حصہ خط افلاس سے نیچے پایا گیا ہے۔ ان کی فی کس آمدنی ملک میں سب سے نیچے رہتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق،درج فہرست قبائل کی 9,17,590 ایکڑ زمین کا تبادلہ کیا گیا اور محض5,37,610ایکڑ زمین ہی انہیں واپس دلائی گئی۔

گھومنتو برادری کی بدحالی کے مختلف اسباب ہیں، جن میں جنگلوںکی تباہ کاری اہم طور پر شامل ہے۔ جنگل ان کی گزر بسر کا واحد وسیلہ ہے، لیکن ختم ہو رہے جنگلاتی وسائل ان کے ایک بڑے حصے کے وجود کو پریشانی میں ڈال رہے ہیں۔ بیداری کا فقدان بھی ان برادریوں کی ترقی میں رکاوٹ بنا ہواہے۔مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ذریعہ شروع کئے گئے ترقی سے متعلق مختلف پروگراموں، اسکیموں کے بارے میں گھومنتو برادری کے لوگوں کو جانکاری نہیں ہے، جس سے انہیں ان کا کوئی بھی فائدہ نہیں مل پاتا۔ پانچویں پنج سالہ اسکیم کے تحت ملک بھر میں درج فہرست قبائلیوں کی ترقی کے لئے ٹرائبل سب اسٹریٹجی (ٹی ایس پی) اسکیم بھی تیار کی گئی ہے۔اس کے تحت عموماً درج فہرست قبائلیوں سے بسے مکمل علاقہ کو ان کی آبادی کے حساب سے کئی زمروں میں شامل کیا گیا ہے۔ان زمروںمیں اٹرگریٹیڈ ایریا ڈیولپمنٹ پروجیکٹ (ٹی ڈی پی)،موڈیفائڈ ایریاڈیولپمنٹ ایپروچ (ماڈا)، کلسٹر اور آدم درج فہرست قبائل گروپ شامل ہیں۔ قبائلیوں کی وزارت کے دفتر نے درج فہرست قبائل کی فلاح اور ترقی کے لیے بنائی گئی اسکیموں پر عمل درآمد جاری رکھا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ لاعلمی،بدعنوانی اور لال فیتا شاہی کے سبب مذکورہ برادریاں اسکیموں سے مستفید نہیں ہو پاتی ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ بیداری مہم چلا کر ان برادریوں کی ترقی کے لئے کارگر اقدامات کیے جائیں، ورنہ حکومت کی فلاحی اسکیمیں کاغذوں پر ہی سمٹ کر رہ جائیں گی۔