Monday, February 22, 2016

میرے محبوب

بزرگروں سے سناہے کہ شاعروں کی بخشش نہیں ہوتی وجہ، وہ اپنے محبوب کو
خدا بنا دیتے ہیں اور اسلام میں اللہ کے برابر کسی کو رکھنا شِرک یعنی ایسا گناہ مانا جاتاہے، جس کی معافی تک نہیں ہے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شاعر جنت کے حق دار نہیں ہوتے اُنہیں دوزخ(جہنم) میں پھینکا جائے گا اگر واقعی ایسا ہے تو مجھے دوزخ بھی قبول ہے آخر وہ بھی تو اُسی اللہ کی تعمیر کی ہوئی ہے جب ہم اپنے محبوب (چاہے وہ خیالی ہی کیوں نہ ہو)سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ اُس کے سوا کسی اور کا خیال کرنا بھی کفر محسوس ہوتاہے اُس کے ہر ستم کو اُس کی ادا مان کر دل سے لگاتے ہیں پھر جس خدا کی ہم عمر بھر عبادت کرتے ہیں تو اُس کی دوزخ کو خوشی سے قبول کیوں نہیں کرسکتے ؟
میری ایک نظم میں ’پرستش‘ لفظ ہٹا دو، ورنہ تمہیں بھاری گناہ ہوگا
آج اپنی پسند کی وہ نظم پوسٹ کر رہی ہوں:

نظم
میرے محبوب
عمر کی
تپتی دوپہری میں
گھنے درخت کی
چھاؤں ہو تم
سلگتی ہوئی
شب کی تنہائی میں
دودھیا چاندنی کی
ٹھنڈک ہو تم
زندگی کے
بنجر سحرا میں
آبِ زم زم کا
بہتا دریا ہو تم
میں صدیوں کی
پیاسی دھرتی ہوں
برستا ،بھیگتا
ساون ہو تم
مجھے جوگن کے
من مندر میں بسی
مورت ہو تم
میرے محبوب
میرے تابندہ خیالوں میں
کبھی دیکھو
سراپا اپنا
میں نے
دنیا سے چھپا کر
برسوں
...تمہاری پرستش کی ہے
فردوس خان-

Thursday, July 09, 2015

روٹی بینک


انسان چاہے تو کیا نہیں کر سکتا. اتر پردیش کے مہوبہ ضلع کے باشندو نے وہ نیک کارنامہ کر دکھایا ہے، جس کے لئے انسانیت ہمیشہ ان پر فخر کرے گی. بدےلي سماج کے صدر حاجی مٹٹن اور کنوینر تارا پاٹکر نے کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر ایک ایسے بینک کی شروعات کی ہے، جو بھوکوں کو روٹی مہیا کرتا ہے.
بیتی 15 اپریل سے شروع ہوئے اس بینک میں ہر گھر سے دو روٹیاں لی جاتی ہیں. شروع میں اس بینک کو صرف 10 گھروں سے ہی روٹی ملتی تھی، لیکن رفتہ-رفتہ ان کی تعداد بڑھنے لگی اور اب 400 گھروں سے روٹیاں ملتی ہیں. اس طرح ہر روز بینک کے پاس 800 روٹیاں جمع ہو جاتی ہیں، جنہیں پیکٹ بنا کر ضرورت مند لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے. اس وقت 40 نوجوان اور پانچ سینئر شہری اس مہم کو چلا رہے ہیں.
شام کو نوجوان گھر گھر جا کر روٹی اور سبزی جمع کرتے ہیں. پھر ان کے پیکٹ بنا کر انہیں ان لوگوں کو پہنچاتے ہیں، جن کے پاس کھانے کی کوئی انتظام نہیں ہے. پیکنگ کا کام خواتین کرتی ہیں. اس کام میں تین سے چار گھنٹے کا وقت لگتا ہے. فی الحال بینک ایک وقت کا کھانا ہی مہیا کرا رہا ہے، مستقبل میں دونوں وقت کا کھانا دینے کی منصوبہ بندی ہے.
اس نیک کام میں لگے لوگ بہت خوش ہیں. اگر ملک بھر میں اس طرح کے روٹی بینک کھل جائیں، تو پھر کوئی بھوکا نہیں سوےگا.
روٹی بینک کا ہیلپ لائن نمبر
9554199090
8052354434

Monday, May 18, 2015

تعلیم کی طرف گامزن مسلم خواتین‎


فردو س خان
تعلیم مہذب سماج کی بنیاد ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ تعلیم یافتہ قوموں نے ہمیشہ ترقی کی ہے۔ کسی بھی شخص کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے تعلیم بہت ضروری ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ جہاں مختلف فرقے تعلیم کو اہمیت دے رہے ہیںوہیں مسلم سماج آج بھی اس معاملے میں بے حد پسماندہ ہے۔ہندوستان میں خاص کر خواتین کی حالت بے حد خراب ہے۔سچر کمیٹی کی رپورٹ کے اعداد و شمار بھی اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ دیگر فرقوں کے مقابلے مسلم خواتین اقتصادی، سماجی اور تعلیمی طور پر کافی پچھڑی ہوئی ہیں، لیکن خاص بات یہ ہے کہ تمام مشکلوں کے باوجود مسلم خواتین مختلف میدانوں میں کامیابی درج کر رہی ہیں۔

سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میںمسلم خواتین کی خواندگی شرح53.7فیصد ہے۔ان میں سے بیشتر خواتین صرف حرف شناشی تک ہی محدود ہیں۔7سے 16برس کی عمر کی اسکول جانے والی لڑکیوں کی شرح صرف 3.11فیصد ہے۔شہری علاقوں میں 4.3فیصد اور دیہی علاقوں میں2.26فیصد لڑکیاں ہی اسکول جاتی ہیں۔
سال2001میں شہری علاقوں میں70.9فیصد لڑکیاں ابتدائی سطح تک ہی تعلیم حاصل کر پائیں، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح47.8فیصد ہے۔سال1948میں یہ شرح بالترتیب 13.9اور4.0فیصد تھی۔سال2001میںآٹھویں کلاس تک تعلیم حاصل کرنے والی شہری علاقوں کی لڑکیوں کی شرح 51.1فیصد اور دیہی علاقوں میں 29.4فیصد ہے۔سال1948میں شہری علاقوں میں5.2فیصد اور دیہی علاقوں میں 0.9فیصد لڑکیاں ہی مڈل سطح تک تعلیم حاصل کر پائی تھیں۔ سال2001میں میٹرک سطح تک تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کی شرح شہری علاقوں میں32.2فیصد اور دیہی علاقوں میں 11.2فیصد ہے۔سال1948میں یہ شرح بالترتیب 3.2اور 0.4 فیصد تھی۔

تعلیم کی ہی طرح خود مختاری کے معاملے میںبھی مسلم خواتین کی حالت تشویشناک ہے۔سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 15سے64سال کی ہندو خواتین(46.1) فیصد کے مقابلے صرف25.2فیصد خواتین ہی بر سر روزگار ہیں۔ بیشتر مسلم خواتین کو پیسوں کے لیے اپنے کنبے کے لوگوں پر ہی منحصر رہنا پڑتا ہے، جس کے سبب وہ اپنی مرضی سے اپنے اوپر ایک بھی پیسہ خرچ نہیں کر پاتیں۔یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ مسلم خواتین کی بدحالی کے لیے ’’مذہبی وجوہات‘‘ کافی حد تک ذمہ دار ہیں۔ان میں برقعہ کا چلن، کئی بیویوں کا رواج اور طلاق کے معاملے اہم طور پر شامل ہیں۔ لڑکوں کی تعلیم کے بارے میں مسلم والدین کی دلیل ہوتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے سے کون سی انہیں سرکاری نوکری مل جائے گی۔پھر پڑھائی پر کیوں پیسہ برباد کیا جائے؟بچوں کو کسی کام میں ڈال دو، سیکھ لیں گے تو زندگی میں کما کھا لیں گے۔وہیں لڑکیوں کے معاملے میں والدین کہتے ہیںکہ سسرال میں جاکر چولہا چوکا ہی تو سنبھالنا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ لڑکیاں سلائی کڑھائی اور گھر کا کام کاج سیکھ لیں۔سسرال میں جاکریہ تو سننا نہیں پڑے گا کہ ماں نے کچھ سکھایا نہیں۔

مرادآباد کی رہنے والی50سال کی کامنی صدیقی بتاتی ہیں کہ وہ پڑھنا چاہتی تھیں، لیکن گھر والوں نے ان کی پڑھائی درمیان میں ہی روک دی۔وہ پانچویں کلاس میں پڑھتی تھیں، تبھی ان کو پردے میں رہنے کے لیے کہہ دیا گیا۔ ان سے کہا گیا کہ وہ صرف گھر کے کام کاج سیکھ لیں۔ سسرال میں یہی سب کام آئے گا۔پڑھ لکھ کر کون سی نوکری کرنی ہے۔انہیں اس بات کا ملال ہے کہ پڑھ نہیں پائیں، لیکن وہ اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتی ہیں۔ان کی چار بیٹیاں ہیں اور چاروں پڑھ رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ وہ سب نہیں ہونے دیں گی جو ان کے ساتھ ہوا۔ شبانہ اور نشاط نے پچھلے سال ہی دسویں کا امتحان پاس کیا ہے، وہ بتاتی ہیں کہ غریبی کی وجہ سے ان کے والدین انہیں تعلیم دلانے میںنا اہل تھے۔ اس لیے انھوں نے اپنی ماں کے ساتھ بیڑیاں بنا کر اپنی پڑھائی کے لیے پیسے اکٹھا کیے۔ان کا کہنا ہے کہ سبھی لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنی چاہئے، کیونکہ تعلیم زندگی کو بہتر بناتی ہے۔ اب وہ بیوٹیشین کا کورس کرکے اپنا بیوٹی پارلر کھولنا چاہتی ہیں۔ راج مستری کا کام کرنے والے علی محمد نے اپنی چاروں بیٹیوں کو تعلیم دی ہے، ان کی دو بیٹیاں دسویں پاس ہیں اور دو نے بی اے تک پڑھائی کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ والدین اپنی بیٹیوں کے لیے جہیز اکٹھا کرتے ہیں، لیکن ہم نے ایسا نہ کرکے ان کی تعلیم پر پیسہ خرچ کیا۔تعلیم ہی میری بیٹیوں کا زیور ہے، جو ساری عمر ان کے کام آئے گا۔چاروں بہنیں گھر پر زردوزی کا کام بھی کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ پہلے بچولئے سے کام لیا کرتی تھیں مگر اب وہ دوکانداروں سے براہ راست رابطہ کرتی ہیںجس سے انہیں پہلے سے زیادہ منافع ہوتا ہے، کیونکہ بچولیا انہیں بہت کم پیسہ دیتا تھا۔
حالانکہ اسلام میں تعلیم کو بہت اہم مانا گیا ہے۔اس کے باوجود مسلم سماج کے رہنمائوں نے تعلیم پر کوئی خاص زور نہیں دیا، جس کے سبب مسلم سماج پچھڑتا چلا گیا۔مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے بھی ایک فتویٰ جاری کرکے کہا ہے کہ تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے لازمی ہے۔چاہے وہ مرد ہو یا خاتون۔مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم پر خاص توجہ دیں، کیونکہ ایک تعلیم یافتہ خاتون پورے کنبے کو مہذب بنا سکتی ہے۔اولاد کی بہتر پرورش کے لیے ماں کا تعلیم یافتہ ہونا بے حد ضروری ہے۔ان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ نا خواندگی ہے۔ایک حدیث میں بھی کہا گیا ہے کہ ایک مرد نے پڑھا تو سمجھو ایک فرد نے پڑھا اور اگر ایک خاتون نے پڑھا تو سمجھو ایک پریوار ، ایک خاندان نے پڑھا۔فتوے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے اولاد تو اولاد نوکرانیوں کو بھی پڑھانے پر زور دیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسلم لڑکیوں کو دانستہ طور پر تعلیم سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، جس سے وہ اپنے حقوق کے تئیں بیدار نہ ہو سکیں۔حضرت محمدﷺ کے دور میں خواتین مساجد میں جاکر نماز ادا کیا کرتی تھیں۔ بے شمار جنگوں میںخواتین نے اپنی جنگی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوایا۔جنگ احد میں جب حضرت محمدﷺ زخمی ہو گئے تو ان کی بیٹی فاطمہؓ نے ان کا علاج کیا۔اس دور میں بھی رفائدہ اور میمونہ نام کی مشہور خاتون معالج تھیں۔رفائدہ کا تو میدان نبوی میں اسپتال بھی تھا، جہاں سنگین حالت میں مریضوں کو  داخل کیا جاتا تھا۔ مسلم خواتین سرجری بھی کرتی تھیں۔ام زیاد، شاذیہ، بنت مائوز، معازت الاپگریا، عطیہ اسریا اورسلیم انصاریہ وغیرہ اس زمانے کی مقبول سرجن تھیں۔ میدان جنگ میں خواتین ڈاکٹر بھی مردوں کے جیسا ہی لباس پہنتی تھیں۔خاتون عالمہ رابعہ بصری کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔مرد عالموں کی طرح وہ بھی مذہبی اجلاس میں شرکت کیا کرتی تھیں۔سیاست میں بھی خواتین نے ناقابل فراموش کام کئے۔ رضیہ سلطان ہندوستان کی پہلی خاتون حکمراں بنیں۔ نور جہاں بھی اپنے وقت کی مقبول سیاست داں رہیں، جو حکومت کا بیشتر کام کاج دیکھتی تھیں۔1857کی جنگ آزادی میں کانپور کی ہر دلعزیز رقاصہ عزیزن بائی سارے عیش و آرام ٹھکرا کر ملک کو غلامی کی زنجیروں سے چھڑانے کے لیے جنگ آزادی میں کود پڑیں۔انھوں نے خواتین کے گروپ بنائے جو مردانہ لباس میں رہتی تھیں۔وہ سبھی گھوڑوں پر سوار ہو کر اور ہاتھ میں تلوار لیکر نوجوانوں کو جنگ آزادی میں حصہ لینے کے لیے راغب کرتی تھیں۔اودھ کے نواب واجد علی شاہ کی بیوی بیگم حضرت محل نے ہندو مسلم اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے قابل ذکر کام کیے۔

موجودہ دور میں بھی مختلف میدانوں میں خواتین اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دے رہی ہیں۔ترکی جیسے جدید ترین ملک میں نہیںبلکہ انتہاپسند سمجھے جانے والے پاکستان اور بنگلہ دیش میں خواتین کو وزیر اعظم بننے کا موقع ملا ہے۔واقعی یہ ایک خوشنما احساس ہے کہ مذہب کے ٹھیکیداروں کی تمام بندشوں کے باوجود مسلم خواتین آج سیاست کے ساتھ کھیل، تجارت، صنعت ، آرٹ، ادب، دفاع اور دیگر سماجی میدانوں میں بھی اہم رول ادا کر رہی ہیں۔جموں و کشمیر کے کلالی-ہلکاک علاقے کی منیرابیگم نے دہشت گردوں کامقابلہ کرنے کے لیے بندوق اٹھا لی۔انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سورن کوٹ کے گائوں کی دیگر خواتین نے بھی ہتھیار اٹھا کر دہشت گردو ںسے اپنے اہل خانہ کی حفاظت کرنے کا عہد لیا۔جموں و کشمیر کے راجوری ضلع کے کالسی گائوں کی رخسانہ کوثر نے دہشت گردو ںکو مار کر یہ پیغام دیا کہ ملک میں بہادر خواتین کی کوئی کمی نہیں ہے۔مغربی بنگال کے نندی گرام کی شبانہ آرا نے تمام رکاوٹوں کو پار کرکے قاضی کا عہدہ سنبھالا۔کیرل کے ناویکلم کی شازینہ نے کیرل یونیورسٹی سے سنسکرت میںایم اے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنے خاندان کا نام روشن کیا۔مغربی بنگال کی پپیا سلطانہ وہاں کی پہلی خاتون ریاستی پولس افسر بنیں۔ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرکے پپیا نے ریاستی پولس سروس کے امتحان کی تیاری شروع کر دی۔انہیں آگے بڑھنے کی ترغیب اپنی ماں سلمیٰ سے ملی ، جو مدرسے میں استانی ہیں۔پپیا کا ماننا ہے کہ ان کے والدین روشن خیال ہیں اور انہی کے تعائون سے آج وہ اس مقام تک پہنچ پائی ہیں۔
یہ ایک خوشنما احساس ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میںاسکولوں میں داخلہ لینے والے مسلم بچوں خاص کر لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔نیشنل یونیورسٹی آف پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ابتدائی سطح یعنی پانچویں تک کے درجات میں 1.438کروڑمسلم بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔یہ تعداد ابتدائی سطح کے درجات میں داخلہ لینے والے کل13.438کروڑ بچوں کا11.03فیصد ہے۔ سال 2007-08میں یہ شرح 10.49فیصد تھی۔جبکہ2006-07میں یہ تعداد کل داخل بچوں کا9.39فیصد تھی۔ان درجات میں پڑھ رہے کل مسلم طلبا میں48.93فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔سینئر سیکنڈری اسکولوں میں بھی مسلم بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔یہ تعداد کل داخلے کی 9.13فیصد ہے۔قابل غور بات یہ بھی ہے کہ سینئر سکینڈری اسکولوں میں لڑکیوں کی تعداد مسلم طلبا کی تعداد کا50.03فیصد ہے، جبکہ سبھی فرقے کی لڑکیوں کا سینئر سکینڈری اسکولوںں میںکل داخلہ محض47.58فیصد ہے۔یہ رپورٹ ملک کی35ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے633اضلاع کے 12.9 لاکھ تسلیم شدہ اسکولوں سے اکٹھا کی گئی جانکاری پر مبنی ہے۔یہ اعداد و شمار مسلم سماج میں تبدیلی کی علامات ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے مسلم سماج میں بھی تعلیم کی قدر ہونے لگی ہے، اس لیے امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والا وقت مسلم خواتین کے لیے تعلیم کی روشنی سے جگمگاتی صبح لیکر آئے گا۔

Saturday, August 31, 2013

!وہ آزاد کے بعد بھی آزاد نہیں تھے‎


فردوس خان 
ہندوستان  کی کثیر آبادی کے درمیان ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے، جسے آزادی کے طویل عرصہ بعد بھی مجرموں کی طرح پولس تھانوں میں حاضری لگانی پڑتی تھی۔ آخر کار 31اگست، 1952کو اسے اس سے نجات تو مل گئی، لیکن اسے کوئی خاص توجہ حاصل نہیں ہوئی۔نتیجتاًاس کی حالت بدسے بدتر ہوتی چلی گئی۔ اس سماج کے لوگوں کو ملال اس بات کا ہے کہ جہاں ملک کی دیگر برادریوں نے ترقی کی، وہیں وہ مسلسل پسماندہ ہوتے چلے گئے۔ان کے پشتینی دھندے ختم ہوتے چلے گئے اور انہیں سرکاری سہولیات کا بھی مکمل فائدہ نہیں مل پایا۔ قابل غور ہے کہ ملک میں 15اگست بطور جشن آزادی منایا جاتا ہے، لیکن انہی خوشنما لمحوں کے درمیان سماج میں ایک ایسا طبقہ بھی ہے، جو اس دن کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتا۔ گھومنتو برادری کے یہ لوگ 31اگست کو آزادی کا جشن مناتے ہیں۔

آل انڈیا ومکت جاتی مورچہ کے ممبر بھولا کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم یوم آزادی نہیں مناتے، لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ ہمارے لئے15اگست کے بجائے 31اگست کی زیادہ اہمیت ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 15لوگوں کو دن میں تین بار پولس تھانہ میں حاضری لگانی پڑتی تھی۔ اگر کوئی شخص بیمار ہونے یا کسی دوسری وجہ سے تھانہ میں موجود نہیں ہوپاتا تو پولس کے ذریعہ اسے اذیتیں دی جاتیں۔ اتنا ہی نہیں، چوری یا کوئی دیگر مجرمانہ واردات پر بھی پولس کا قہر ان پر ٹوٹتاتھا۔ یہ سلسلہ طویل عرصہ تک چلتا رہا۔ آخر کار عاجز آ کر تشدد کے شکار لوگوں نے اس انتظامی تسلط کے خلاف آواز بلند کی اور پھر شروع ہوا لوگوں میں بیداری لانے کا سلسلہ۔لوگوں کی جدوجہد رنگ لائی اور پھر سال 1952میں انگریزوں کے ذریعہ 1871میں بنائے گئے ایکٹ میں ترمیم کی گئی۔ اسی سال 31اگست کو گھومنتو برادری کے لوگوں کو تھانہ میں حاضری لگانے سے نجات ملی۔

اس وقت ملک میں ومکت برداری کے 192قبیلوں کے تقریباً20کروڑ لوگ ہیں۔ ہریانہ کی تقریباًساڑھے سات فیصد آبادی اسی برادری کی ہے۔ ان ومکت برداریوں میں سانسی، باوریا، بھاٹ، نٹ بھیڑ کٹ اور ککر وغیرہ بھی شامل ہیں۔ بھاٹ برداری سے تعلق رکھنے والے پربھو بتاتے ہیں کہ 31اگست کے دن قبیلے کے رسم و رواج کے مطابق اجتماعی رقص کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ خواتین جمع ہو کر پکوان بناتی ہیں اور اس کے بعد اجتماعی عشائیہ ہوتا ہے۔ بچے بھی اپنے اپنے طریقوں سے خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔ کئی قبیلوں میں پتنگ بازی کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جیتنے والے لوگوں کو تقریب کی زینت سمجھا جاتا ہے۔ لوگ انہیں مبارکباد کے ساتھ ساتھ انعام بھی دیتے ہیں۔ان برادریوں کے لوگوں کے اداروں میں31اگست کو یوم آزادی منایاجاتا ہے۔ ان پروگراموں میں مرکزی وزراء سے لے کر مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندگان اور سرکاری افسران بھی شرکت کرتے ہیں۔ ان کی تیاریوں کے لئے تنظیم کے عہدیداران گائوں گائوں کا دورہ کر کے لوگوں کو تقریب کے لئے مدعو کرتے ہیں۔

ہریانہ کے علاوہ ملک کی د یگر ریاستوں میں بھی قبائلی سماج کی دیگر برادریاں رہتی ہیں، جن میں آندھرا پردیش میں بھیلی، چینچو، گونڈ، کانڈا، لمباڈی، سنگلی اور نائک ۔ آسام میں بوشے، کچاری مکر یعنی کاربی، لنلگ، راتھا، دماسا، ہمر اور ہجونگ۔بہار اور جھارکھنڈ میں جھمور ،بنجارا، برہور، کوروا، منڈا، اورائو، سنتھال، گونڈ اور کھنڈیا۔ گجرات میں بھیل، ڈھوڈیا،گونڈ،سدی،بورڈیا اور بھیلالا۔ ہماچل پردیش میں گدی،لاہوآلا اور سوانگلا۔ کرناٹک میں بھیل،چینچو، گائوڈ ، کروبا، کمارا، کولی، کوتھا، میاکا اور ٹوڈا۔کیرل میں آدیم، کونڈکپو ،ملیس اور پلیار۔مدھیہ پردیش میں بھیل، برہور ، امر، گونڈ، کھریا،ماجھی، منڈا اور اورائوں۔ چھتیس گڑھ میں پرہی، بھیلالا،بھیلائت، پردھان، راجگونڈ، سہریا، کنور،بھینجوار ،بیگا، کول اور کورکو۔ مہاراشٹر میں بھیل،بھونجیا،ڈھوڈیا،گونڈ، کھریا، نائک،اورائوں،پردھی اور پتھنا۔ میگھالیہ میں گارو، کھاسی اور جینتیا۔اڑیسہ میں جوانگ، کھانڈ ،کرووا،منڈاری، اورائوں، سنتھال،دھاروآ اور نائک، راجستھان میں بھیل، دمور، گرستہ،مینا اور سلریا۔ تمل ناڈو میں ارولر، کمرار ، کونڈکپو،کوٹا، مہملاسر، پلین اور ٹوڈا۔ تریپورہ میں چکما ،گارو، کھاسی، کوکی، لوسائی،لیانگ اور سنتھال۔ مغربی بنگال میں اسور، برہور، کوروا، لیپچا، منڈا، سنتھال اور گونڈ۔ میزورم میںلوسئی،ککی، گارو، کھاسی، جینتیا اور مکٹ۔ گوا میں ٹوڈی اور نائک۔دمن و دیپ میں ڈھوڈی، مکڑ اور ورتی۔ انڈمان میں جاروا، نکوبارمیں،اونجے،سینٹی نیلج،شومپینس اور گریٹ انڈمانی۔ اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں بھاٹی، بکسا، جونساری اور تھارو۔ ناگالینڈ میں ناگا، ککی، مکٹ اور گارو۔ سکم میں بھوٹیا اور لیپچا۔ جموںو کشمیر میں چدمپا، گرا، گور اور گڈی وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے دیگر برادریاں اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں۔
انڈین نیشنل لوک دل کے ٹپری واس ومکت جاتی مورچہ کے ضلع صدر بہادر سنگھ کا کہنا ہے کہ آزادی کی 6دہائیوںکے بعد بھی قبائلی سماج کی گھومنتو برادریاں ترقی سے کوسوں دور ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان برادریوں کی سماجی اور اقتصادی ترقی کے لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ انہیں مقامی طور پر آباد کریں۔ ان کے لئے بستیاں بنائی جائیں اور مکان مہیا کرائے جائیں، بچوں کو مفت تعلیم دی جائے اور ایس ٹی کا درجہ دیا جائے، تاکہ انہیں بھی ریزرویشن کا فائدہ مل سکے۔ قبائلی سماج کی بیشتر برادریاں آج بھی بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ وزارت دیہی ترقیات کے ایک سروے کے مطابق ان برادریوں کا نصف سے زیادہ حصہ خط افلاس سے نیچے پایا گیا ہے۔ ان کی فی کس آمدنی ملک میں سب سے نیچے رہتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق،درج فہرست قبائل کی 9,17,590 ایکڑ زمین کا تبادلہ کیا گیا اور محض5,37,610ایکڑ زمین ہی انہیں واپس دلائی گئی۔

گھومنتو برادری کی بدحالی کے مختلف اسباب ہیں، جن میں جنگلوںکی تباہ کاری اہم طور پر شامل ہے۔ جنگل ان کی گزر بسر کا واحد وسیلہ ہے، لیکن ختم ہو رہے جنگلاتی وسائل ان کے ایک بڑے حصے کے وجود کو پریشانی میں ڈال رہے ہیں۔ بیداری کا فقدان بھی ان برادریوں کی ترقی میں رکاوٹ بنا ہواہے۔مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ذریعہ شروع کئے گئے ترقی سے متعلق مختلف پروگراموں، اسکیموں کے بارے میں گھومنتو برادری کے لوگوں کو جانکاری نہیں ہے، جس سے انہیں ان کا کوئی بھی فائدہ نہیں مل پاتا۔ پانچویں پنج سالہ اسکیم کے تحت ملک بھر میں درج فہرست قبائلیوں کی ترقی کے لئے ٹرائبل سب اسٹریٹجی (ٹی ایس پی) اسکیم بھی تیار کی گئی ہے۔اس کے تحت عموماً درج فہرست قبائلیوں سے بسے مکمل علاقہ کو ان کی آبادی کے حساب سے کئی زمروں میں شامل کیا گیا ہے۔ان زمروںمیں اٹرگریٹیڈ ایریا ڈیولپمنٹ پروجیکٹ (ٹی ڈی پی)،موڈیفائڈ ایریاڈیولپمنٹ ایپروچ (ماڈا)، کلسٹر اور آدم درج فہرست قبائل گروپ شامل ہیں۔ قبائلیوں کی وزارت کے دفتر نے درج فہرست قبائل کی فلاح اور ترقی کے لیے بنائی گئی اسکیموں پر عمل درآمد جاری رکھا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ لاعلمی،بدعنوانی اور لال فیتا شاہی کے سبب مذکورہ برادریاں اسکیموں سے مستفید نہیں ہو پاتی ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ بیداری مہم چلا کر ان برادریوں کی ترقی کے لئے کارگر اقدامات کیے جائیں، ورنہ حکومت کی فلاحی اسکیمیں کاغذوں پر ہی سمٹ کر رہ جائیں گی۔

Sunday, July 28, 2013

خواتین ریزرویشن بل : مرد ممبران پارلیمنٹ کو اعتراض کیوں‎


فردوس خان
گزشتہ سال دہلی میں اجتماعی عصمت دری کے واقعہ کے بعد ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے کی آواز پھر سے بلند ہونے لگی ہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مرد، عورت کو ہمیشہ دوسرے درجے اور حاشیے پر رکھنا چاہتا ہے۔ اسی لئے آج تک خواتین ریزرویشن بل پاس نہیں ہو پایا ہے۔ دراصل اس بل کی راہ میں مرد کی وہی ذہنیت حائل ہے، جو عورتوں کو صرف گھر کی چہار دیواری میں قید رکھنا چاہتی ہے۔ آخر کیوں ہے مردممبران پارلیمنٹ کو اعتراض؟ پڑھئے چوتھی دنیا کی یہ خصوصی رپورٹ۔

خواتین کو بااختیار بنانے کے تمام دعووں کے باوجود خواتین ریزرویشن بل گزشتہ ڈیڑھ سال سے بھی زیادہ مدت سے لوک سبھا میں زیر التوا ہے، کیونکہ زیادہ تر مرد ممبران پارلیمنٹ نہیں چاہتے کہ خواتین سیاست میں آئیں۔ انھیں ڈرہے کہ اگر ان کی سیٹ خاتون کے لئے ریزرو ہو گئی تواس صورت میں وہ الیکشن کہاں سے لڑیں گے۔ دراصل، کوئی بھی ممبر پارلیمنٹ اپنا انتخابی حلقہ نہیں چھوڑنا چاہتا۔ حالانکہ خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتیں دلت، پسماندہ اور اقلیتوں کے نام پر اپنا مفاد ثابت کرنا چاہتی ہیں اور اس کے لئے انھوں نے بہانہ بھی تلاش کر لیا ہے۔ یہ جگ ظاہر ہے کہ دلتوں ، پسماندوں، اقلیتوں اور غریب خواتین کے حق کی بات کرنے والی سیاسی جماعتیں الیکشن کے دوران ٹکٹ کے بٹوارے میں پیسہ ، اثرو رسوخ اور اقرباپروری کو ہی ترجیح دیتی ہیں۔ وہ جن عورتوں کو اپنی ا میدوار بناتی ہیں، ان میں سے زیادہ ترعورتیں سیاسی پریواروں سے ہی ہوتی ہیں۔ ایسے میں دلت، پسماندہ، اقلیت اور غریب خواتین حاشیے پر چلی جاتی ہیں۔ کچھ پارٹیوں کو یہ بھی فکر ہوتی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں جیتنے والی خاتون امیدوار کہاں سے لائیں گی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امیدوار نہ ملنے پر سیاستداں اپنے خاندان اور رشتے داروں کی خواتین کو ہی انتخابی میدان میں اتارتے ہیں۔

لوک سبھا میں حزب اختلاف کی لیڈر سشما سوراج خواتین ریزرویشن بل کو لے کر فکر مند دکھائی دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا آج وقت کی مانگ ہے، اس لئے خواتین ریزرویشن بل منظور ہونا چاہئے۔ وہ کہتی ہیں کہ بی جے پی ہمیشہ اس بل کی حمایت میں رہی ہے اور وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے سرکارکے دوران پارٹی نے اسے منظور کرانے کی پوری طرح کوشش کی، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت دیگر پارٹیوں سے حمایت حاصل نہیں ہو پائی۔

دراصل ملک کی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خواتین کو ریزرویشن دینے والے بل کو لیکر سیاسی جماعتیں آمنے سامنے ہیں۔ جہاں ایک طرف برسر اقتدار کانگریس سمیت بی جے پی اور بائیں بازو کی جماعتیںبل کی حمایت کر رہی ہیں، وہیں راشٹریہ جنتادل، سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور لوک جن شکتی پارٹی نے اس بل کی موجودہ شکل کی اس لئے مخالفت کی ہے کیونکہ وہ سماج کے پسماندہ طبقوں کے لئے ریزرویشن میں ریزرویشن چاہتی ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس بل کوراجیہ سبھا کی منظوری ملنے کے باوجود کارروائی آگے نہیں بڑھ پائی ہے۔ یہ بل لوک سبھا میں زیر التوا ہے۔ حالانکہ ایک بار پھر بین الا قوامی یوم خواتین کے موقع پر راجیہ سبھا کے ممبران نے اتفاق رائے سے خواتین ریزرویشن بل کو پاس کرنے کی اپیل کی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ خواتین ریزرویشن بل کئی بار پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔ یہ بل سب سے پہلے ایچ ڈی دیوگوڑا کی وزارت عظمیٰ کی مدت کار میں 1996میں لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا۔ اس پر کافی ہنگامہ ہوا۔ پھر 1998میں جب اس وقت کے وزیر قانون تمبی درے بل پیش کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان کے ہاتھ سے بل کی کاپی لیکر پھاڑ دی گئی۔ اس کے بعد 6مئی 2008کو اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا، جہاں اسے لیگل سسٹم اور پرسنل میٹر کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو سونپا گیا۔ سیاسی پارٹیوں کی مخالفت کے باوجود پارلیمانی کمیٹی نے اسے اصل شکل میں ہی پاس کرانے کی سفارش کی۔ اس بل کے معاملے میں مرکزی سرکار کو 9 مارچ 2010کو اس وقت ایک بڑی کامیابی ملی، جب اس کے لئے لائے گئے108ویںآئین ترمیم بل کو راجیہ سبھا کی منظوری مل گئی۔

سیاست میں خواتین کو مناسب نمائندگی دلانے کے لئے خواتین ریزرویشن بل کا پاس ہونا بے حد ضروری ہے۔ خواتین ریزرویشن بل میں لوک سبھا اور ریاستوں کی اسمبلیوں میں خواتین کے لئے 33فی صد سیٹیں ریزرو کرنے کا اہتمام ہے۔ خواتین ریزرویشن نافذ ہونے کے 15 سال بعد یہ ریزرویشن ختم ہو جائے گااور اسے آگے جاری رکھنے کے بارے میں جائزہ لیا جائے گا۔ دنیا کے تقریباً سو ممالک میں خواتین کوسیاست میںمناسب نمائندگی دینے کے لئے ریزرویشن کا قانون ہے۔ ریزرویشن کا فیصد سبھی ممالک میں الگ الگ ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایشیائی ملکوں میں خواتین کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔ ان ملکوں کا اوسط تناسب18.5فیصد ہے، جو کہ کافی کم ہے۔ اس معاملے میں سری لنکا کی حالت بیحد خراب ہے، وہاں یہ شرح محض 6فیصد ہے۔ مغربی ممالک کی خواتین سیاست میں بہت آگے ہیں۔ روانڈا کی پارلیمنٹ میں 56فیصدخواتین ہیں۔ یہ شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے بعد سویڈن کا نام آتا ہے، جہاں یہ شرح 47فیصد ہے۔ جنوبی افریقہ میں 45فیصد، آئس لینڈ میں43فیصد، ارجنٹنا میں 42فیصد، نیدر لینڈمیں41فیصد، ناروے اور سینیگل میں40فیصد، ڈنمارک میں38 فیصد، انگولا اور کوسٹاریکا میں37فیصدخواتین پارلیمنٹ میں ہیں۔ ہندوستان میں یہ شرح محض 11فیصد ہی ہے۔ حالانکہ 1995سے 2012کے درمیان سیاست میں خواتین کی تعداد 75فیصد بڑھی ہے، لیکن ہندوستان میں حالت اچھی نہیں ہے۔ 1991سے 2012کے درمیان خاتون نمائندوں کی تعداد 9.7فیصد سے 10.96فیصد ہی بڑھی ہے۔ 1957 میں لوک سبھا میں)22 48.9فیصد)خواتین جیت کر آئی تھیں۔ 1962میں47)31 فیصد)، 1967میں29(43.3فیصد)، 1971میں21 24.4) فیصد)، 1977میں19(27.1 فیصد)، 1980میں 28 (19.6فیصد )، 1984میں 42(25.2فیصد )، 1989میں 29(14.7فیصد )، 1991میں37(11.4فصد )، 1996میں 40(6.7فیصد)، 1998میں 43(15.7فیصد )، 1999میں 49(17.3فیصد)، 2004میں 45(12.7فیصد )اور 2009میں 49 (10.6فیصد ) خواتین لوک سبھا کی ممبر بنیں۔

خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت کے لئے سیاستداں طرح طرح کی دلیلیں دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس بل سے غریب اور دیہات میں رہنے والی خواتین کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔ جنتادل (یونائٹیڈ) کے صدر شرد یادو نے بل کے ضابطوں پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ اس بل سے صرف پَر کَٹی عورتوں کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ سماجوادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو کا کہنا ہے کہ اگر مرکز ی سرکار خواتین ریزرویشن بل میں ترمیم کرکے دلت، پسماندہ طبقہ اور مسلم سماج کی خواتین کے لئے ریزرویشن کی بات کرے، تو ان کی پارٹی اسے حمایت دینے پر غور کر سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی ، خواتین ریزرویشن کے خلاف نہیں ہے، لیکن یہ بل اگر موجودہ شکل میں پاس ہوتا ہے، تو ٖغریب اور دیہاتی خواتین کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اس لئے ان کی پارٹی یہ چاہتی ہے کہ خواتین ریزرویشن بل میں دلت، پسماند ہ طبقے اور مسلم سماج کی خواتین کے لئے ریزرویشن کا انتظام کیا جائے۔ اسی طرح راشٹریہ جنتادل کے صدر لالو یادو کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی ریزرویشن کے خلاف نہیں ہے، لیکن وہ چاہتے ہیںکہ اس بل میں پچھڑی، دلت اور مسلم خواتین کو ریزرویشن ملے۔ سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی بھی اپنے شوہر کی طرز پر خواتین ریزرویشن کے کوٹے کے اندر کوٹے کا مطالبہ کر تی ہیں، یعنی وہ درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور پسماندہ طبقے کی خواتین کو بھی ریزرویشن میں شامل کرنے کی بات کہتی ہیں۔ ان پارٹیوں کی مخالفت کی حالت یہ ہے کہ مارچ 2010میں جب بھاری ہنگامے اور شور شرابے کے درمیان سرکار کی طرف سے اس وقت کے وزیر قانون ویرپا موئلی نے جیسے ہی ایوان میںخواتین ریزرویشن بل رکھا، تبھی بل کی مخالفت کر رہے جنتادل(آر جے ڈی ) اور سماجوادی پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ چیئر مین حامد انصاری کی نشست تک پہنچ گئے۔ آر جے ڈی کے ممبر پارلیمنٹ سبھاش یادو، راجنیتی سنگھ اور سماجوادی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ کمال اختر نے حامد انصاری سے چھینا جھپٹی کرتے ہوئے، بل کی کاپیاں چھین لیں اور انھیں پھاڑکر ایوان میں لہرادیا۔ یہ مخالفت یہیں تک ہی محدود نہیںرہی، بلکہ ملائم سنگھ یادو اور لا لو پرساد یادو نے یو پی اے سرکار سے حمایت واپس لینے کا اعلان تک کر دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس بل کے پاس نہ ہونے کے پس پردہ مردکی مردانہ ذہنیت کام کر رہی ہے، کیونکہ جب سے انسان نے روئے زمین پر قدم رکھا ہے، تبھی سے انسانی سماج دو گروپوں میں منقسم رہا ہے۔ پہلا گروپ مردوں کا ہے اور دوسرا عورتوں کا۔ چونکہ عورتیں جسمانی طور پر مردوں کے مقابلے کمزور ہوتی ہیں، اس لئے مردسماج نے عورت کو دوسرے درجے پر رکھا۔ عورتوں کے ساتھ شروع سے ہی امتیاز برتا جاتارہا ہے۔چاہے معاملہ مذہب کا ہو، سیاست کا ہو یا پھر کسی اور شعبے کا، ہر جگہ عورت کو کمتر تصور کیا گیا۔ ملک کی جنگ ِ آزادی کے دوران بابائے قوم مہاتما گاندھی نے خواتین کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ گھر کی چہار دیواری سے باہر آکر انگریزوں سے لوہا لیں۔ انھوں نے عورتوں کو جھانسی کی رانی کی مثال دی، جنھوں نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کی اور میدانِ جنگ میں فرنگیوں کو بتادیاکہ ہندوستان کی عورتیں صرف چوڑیاں ہی نہیں پہنتی ہیں، بلکہ وقت آنے پر تلوار بھی اٹھا لیتی ہیں۔ نتیجہ کے طور پر عورتوں نے ملک کی جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آزادی کے بعد عورتیںسیاست میں بھی آئیں، لیکن ان کی تعداد محض برائے نام رہی۔ عورتوں کو سیاست میں مناسب مقام دینے کے لئے ریزرویشن کا مطالبہ کیا گیا۔ پارلیمنٹ میں 1993میں 73ویں 74ویں آئینی ترمیم کی گئی۔ اس کے تحت میونسپل کارپوریشن اور پنچایتوں کو آئینی درجہ دینے کے ساتھ ہی ان میں عورتوں کے لئے 33فیصد ریزرویشن دینے کاجواز ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ آئین میں لوک سبھا اور ریاستوں کی اسمبلیوں میں درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے لئے، ان کی آبادی کے تناسب کے مطابق ریزرویشن کا بندوبست ہے، لیکن ان میں عورتوں کے لئے مقام محفوظ کرنے کا کوئی قانون نہیں ہے اور اسی سبب اس سہولت کا فائدہ صرف مرد ہی اٹھا رہے ہیں۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایا وتی خود عورت ہوتے ہوئے بھی اس بل کی مخالفت کر رہی ہیں۔ حالانکہ انھوں نے مجوزہ بل میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی عورتوں کی ہر شعبے میں بھر پور حصہ داری کے لئے اس بل کی حمایت کرتے ہوئے مجوزہ 33فیصد ریزرویشن میں سے درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کی عورتوں کے لئے الگ سے ریزرویشن کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس بابت انھوں نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ایک خط بھی لکھا ہے کہ ملک میں سبھی طبقوں کی عورتیں خاص طور سے درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کی عورتیں مالی ، سماجی اور تعلیمی اعتبار سے پچھڑی ہوئی ہیں اور یہ عورتیں میدانِ سیاست میں تو اور بھی پچھڑی ہوئی ہیں۔ سیاست میں عورتوں کو نمائندگی دلانے کا مطالبہ پچھلے کافی عرصے سے ہو رہا ہے۔ 1974میں عورتوں کی صورتحال کے لئے تشکیل کی گئی ایک کمیٹی نے سیاسی اداروں میں ان کے لئے جگہ محفوظ کرنے کی سفارش کی تھی۔ اسی طرح 1988میں نیشنل پرسپیکٹو پلان میں پنچایتوں، شہری اداروں اور سیاسی جماعتوں میں عورتوں کے لئے 30فیصد ریزرویشن کی سفارش کی گئی تھی۔ اس کے بعد 2001میں خواتین کو بااختیار بنانے کی قومی حکمت عملی کے تحت لوک سبھا اور اسمبلیوں میں عورتوں کو ریزرویشن دینے کی وکالت کی گئی۔

خواتین کے ریزرویشن کو لے کر سیاست بھی خوب جم کو ہوتی رہی ہے۔ یو پی اے نے پچھلے چناؤ میں خواتین کے ریزرویشن کو اپنے منشور میں شامل کرتے ہوئے عورتوں کے استحکام کے تئیں اپنے عزم کو دہرایا۔ یوپی اے کی چیئر پرسن سونیا گاندھی کا کہنا ہے کہ خواتین ریزرویشن بل پاس ہو جاتا ہے تو سمجھئے راجیو گاندھی کا عورتوں کے سیاسی استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو جائے گا۔ کانگریسی لیڈر اور سابق مرکزی وزیر امبیکا سونی کہتی ہیں کہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوںمیں عورتوں کے لئے ریزرویشن بیحد ضروری ہے۔

دراصل اس خواتین ریزرویشن بل کی شروع سے ہی مخالفت کی گئی۔ حالانکہ برسر اقتدار کانگریس، بھارتیہ جنتا پارٹی اور بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ ہی دیگر علاقائی پارٹیاں جیسے تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) ، دروڑ مُنیتر کشگم(ڈی ایم کے) ، آل انڈیا دروڑ منیتر کشگم(اے آئی ڈی ایم کے)، اکالی دل اور نیشل کانفرنس اس کی حمایت کر رہی ہیں، لیکن کانگریس اور بی جے پی کے ممبروں میں اس مدعے پر عام رائے نہیں دکھائی دے رہی ہے ۔ کانگریس اور بی جے پی کے اعلیٰ لیڈر یہ جانتے ہیں کہ ان کے بہت سے ممبران پارلیمنٹ خواتین ریزرویشن بل کے خلاف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ راجیہ سبھا میں دونوں پارٹیوںکو وہپ جاری کرکے اپنے ممبران پارلیمنٹ کو ووٹ دینے کے لئے مجبور کرنا پڑا۔ واضح ہو کہ وہپ تبھی جاری کیا جاتا ہے، جب ممبران پارلیمنٹ یا ممبران اسمبلی کے پارٹی کے خلاف جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایک کمیونسٹ پارٹی ہی ایسی ہے، جس کی اس بل کو پوری طرح سے حمایت حاصل ہے، کیونکہ کمیونسٹ ممبران پارلیمنٹ ، پارٹی کی آئیڈیالوجی پرہی چلنے میں یقین رکھتے ہیں۔ مارکسوادی لیڈر ورندا کرات خواتین ریزرویشن بل کی حمایت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس کے پاس ہونے سے ملک کی جمہوریت اور مضبوط ہوگی۔

بہر حال جس طرح بڑی سیاسی جماعتیں بل کی موجودہ شکل کی مخالفت کر رہی ہیں، اس کے مدنظر لوک سبھا میں اس کا پاس ہونا ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں دلتوں،پچھڑوں اور اقلیتوں کے حقوق کے تئیں اتنی ہی سنجیدہ ہیں، تو انھیں اس بل کو پاس کرانا چاہئے۔ اس کے بعد وہ اپنی سطح پر ان طبقوں کو ٹکٹ دے کر سیاست میں آگے لاسکتے ہیں۔ مگر یہ جماعتیں ایسا نہیں کریں گی، کیونکہ ان کا اصل مقصد ان طبقوں کی فلاح و بہبود نہیں، بلکہ عورتوں کو آگے آنے سے روکنا ہے۔