Monday, February 22, 2016

میرے محبوب

بزرگروں سے سناہے کہ شاعروں کی بخشش نہیں ہوتی وجہ، وہ اپنے محبوب کو
خدا بنا دیتے ہیں اور اسلام میں اللہ کے برابر کسی کو رکھنا شِرک یعنی ایسا گناہ مانا جاتاہے، جس کی معافی تک نہیں ہے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شاعر جنت کے حق دار نہیں ہوتے اُنہیں دوزخ(جہنم) میں پھینکا جائے گا اگر واقعی ایسا ہے تو مجھے دوزخ بھی قبول ہے آخر وہ بھی تو اُسی اللہ کی تعمیر کی ہوئی ہے جب ہم اپنے محبوب (چاہے وہ خیالی ہی کیوں نہ ہو)سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ اُس کے سوا کسی اور کا خیال کرنا بھی کفر محسوس ہوتاہے اُس کے ہر ستم کو اُس کی ادا مان کر دل سے لگاتے ہیں پھر جس خدا کی ہم عمر بھر عبادت کرتے ہیں تو اُس کی دوزخ کو خوشی سے قبول کیوں نہیں کرسکتے ؟
میری ایک نظم میں ’پرستش‘ لفظ ہٹا دو، ورنہ تمہیں بھاری گناہ ہوگا
آج اپنی پسند کی وہ نظم پوسٹ کر رہی ہوں:

نظم
میرے محبوب
عمر کی
تپتی دوپہری میں
گھنے درخت کی
چھاؤں ہو تم
سلگتی ہوئی
شب کی تنہائی میں
دودھیا چاندنی کی
ٹھنڈک ہو تم
زندگی کے
بنجر سحرا میں
آبِ زم زم کا
بہتا دریا ہو تم
میں صدیوں کی
پیاسی دھرتی ہوں
برستا ،بھیگتا
ساون ہو تم
مجھے جوگن کے
من مندر میں بسی
مورت ہو تم
میرے محبوب
میرے تابندہ خیالوں میں
کبھی دیکھو
سراپا اپنا
میں نے
دنیا سے چھپا کر
برسوں
...تمہاری پرستش کی ہے
فردوس خان-